چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں ہوسٹل کی عمارتوں کی تکمیل اور اِستعمال کیلئے ذمہ داری طے کی

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک میٹنگ کی صدارت کی تاکہ جموں و کشمیر میں مختلف محکمہ جات کے ذریعے تعمیر کئے گئے ہاسٹلوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور ان تمام اثاثوں کو جلد از جلد فعال اور مقصد کے مطابق فائدہ مند بنانے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم، کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود، مشن ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا، مشن ڈائریکٹر آر یو ایس اے، ڈائریکٹرز سکول ایجوکیشن جموں و کشمیر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے مختلف محکموں کی طرف سے گزشتہ برسوں میں قائم کئے گئے ہوسٹل بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عوامی سرمایہ کاری سے تعمیر کی گئی متعددہوسٹل عمارتیں اَب تک فعال نہیں ہو سکیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ عوامی فنڈز کے ذریعے بنائے گئے اثاثوں کو زیادہ سے زیادہ اِستعمال میں لایا جائے اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ ایسی سہولیات کی تکمیل اور انہیں فعال بنانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔چیف سیکرٹری نے محکمہ سکولی تعلیم کو ہدایت دی کہ ضلعی سطح پر جوابدہی طے کی جائے اور متعلقہ چیف ایجوکیشن افسران کو اپنے دائرٔ اختیار میں آنے والے ہوسٹل منصوبوں کی تکمیل اور انہیں فعال بنانے کا ذمہ دار بنایا جائے۔اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ ہر ہوسٹل کے لئے ایک مخصوص مینٹرنگ آفیسر نامزد کیا جائے جو پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے اور منصوبوں کی تکمیل و فعالیت میں حائل رُکاوٹوں کو بروقت دور کرنے میںسہولیت فراہم کرے۔اَتل ڈولو نے عوامی وسائل کے مؤثر اِستعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے محکمہ جاتی سربراہان اور ڈائریکٹروں سے کہا کہ وہ تمام مکمل ہوسٹل عمارتوں کو بغیر کسی تاخیر کے فعال بنانے پر توجہ دیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ان اثاثوں کی تعمیرمیں خاطر خواہ عوامی فنڈز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اوراس لئے انہیں غیر فعال یا کم اِستعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔اُنہوں نے محکموں سے یہ بھی کہا کہ ان تمام ہوسٹل عمارتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے جو اپنے اصل مقصد کے لئے موزوں نہیں رہیں اور عوامی مفاد میں ان کے متبادل اور تعمیری استعمال کے امکانات تلاش کئے جائیں۔ اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر عوامی اثاثے کو سماجی بہبود اور انسانی ترقی کے لئے بامعنی کردار اَدا کرنا چاہیے۔چیف سیکرٹری نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اَپنی اَپنی سکیموں کے تحت قائم ہر ہوسٹل کی منظور شدہ گنجائش، موجودہ رہائشی تعداد اور داخلہ صورتحال کی مکمل تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کے مؤثر استعمال اور مستقبل کے انتظام و انصرام کے بارے میں مناسب فیصلے کئے جا سکیں۔دورانِ میٹنگ کمشنر سیکرٹری محکمہ سکولی و اعلیٰ تعلیم رام نواس شرما نے شعبے کے تحت موجود ہوسٹل بنیادی ڈھانچے کے بارے میں تفصیلی جائزہ پیش کیا جس میں فعال اور غیر فعال ہوسٹلوں کے علاوہ زیرِ تعمیر ہوسٹلوں کی معلومات بھی شامل تھیں۔اُنہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ (کے جی بی وِی) اور دیگر سکیموں کے تحت مختلف اضلاع میں ہوسٹل قائم کئے گئے ہیں جن میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ہوسٹل شامل ہیں جو سکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبأ کو سہولیت فراہم کر رہے ہیں۔کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود سرمد حفیظ نے بھی دیگر پسماندہ طبقات (او بی س)، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور پہاڑی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے قائم ہوسٹل سہولیات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور ان کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ ان کے بہتر استعمال کیلئے اُٹھائے جا رہے اَقدامات سے آگاہ کیا۔محکمہ قبائلی امور کے نمائندوں نے میٹنگ کو قبائلی طالب علموں کے لئے قائم ہوسٹلوں کی دستیابی، رہائشی گنجائش کے استعمال اور عملی تیاری کے بارے میں آگاہ کیا۔ اُنہوں نے اس وقت زیر تعمیر ہوسٹلوں اور آپریشنل ہونے کے منتظر ہوسٹلوں کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔تمام محکموں نے میٹنگ کو یقین دِلایا کہ چیف سیکرٹری کی ہدایات کے مطابق ان تمام سہولیات کو جلد از جلد فعال بنانے کے لئے مربوط اور مؤثر کوششیںکی جارہی ہیں۔