مسئلہ صرف اسمارٹ سٹی منصوبہ نہیں ، برسوں سے موجود بنیادی ڈھانچہ جاتی خامیوں کا نتیجہ// ماہرین
سرینگر// سرینگر میں ہر شدید بارش کے بعد سڑکوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہونے پر اسمارٹ سٹی منصوبہ شدید تنقید کی زد میں آ جاتا ہے، تاہم شہری منصوبہ بندی اور انجینئرنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی جڑ صرف اسمارٹ سٹی منصوبہ نہیں بلکہ شہر کے نکاسی آب کے فرسودہ نظام، سیوریج اور برساتی پانی کے مشترکہ نیٹ ورک، غیر قانونی کنکشنز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے کئی عوامل ہیں۔ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث کم وقت میں زیادہ بارش ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا کے بیشتر شہروں کی طرح سرینگر کا ڈرینیج نظام بھی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام معمول کی بارش کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن غیر معمولی بارش کے دوران عارضی طور پر پانی جمع ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے سابق چیف انجینئر افتخار کاکرو کے مطابق شہر کا نکاسی آب کا نظام بین الاقوامی انجینئرنگ معیار کے مطابق تعمیر کیا گیا ہے اور کسی بھی شہر کا ڈرینیج نظام غیر معمولی شدت کی بارش کو فوری طور پر خارج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق بارش کا پانی پہلے نالیوں کے ذریعے پمپنگ اسٹیشنوں تک پہنچتا ہے، اس کے بعد ہی پمپنگ کا عمل شروع ہوتا ہے، اس لیے شدید بارش کے دوران کچھ وقت کے لیے پانی جمع ہونا فطری امر ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ شہر میں سیوریج اور برساتی پانی کے لیے الگ نظام کا نہ ہونا ہے۔ ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے تقریباً 124 کروڑ روپے کی لاگت سے 49 جدید پمپنگ اسٹیشن قائم کیے گئے اور ان میں جدید ’ایس سی اے ڈی اے‘نظام بھی نصب کیا گیا، لیکن شہر میں گھریلو گندہ پانی بھی انہی نالیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے جو برساتی پانی کے لیے مختص ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کے باعث پمپنگ اسٹیشن بارش کے پانی کے ساتھ ساتھ سیوریج بھی جھیلوں اور دیگر آبی ذخائر میں خارج کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پانی آلودہ ہو رہا ہے بلکہ پمپوں میں کیچڑ جمع ہونے سے ان کی استعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔افتخار ککرو نے کہا کہ گھروں کی جانب سے برساتی نالیوں میں کیے گئے غیر قانونی سیوریج کنکشنز ڈرینیج نظام کی گنجائش کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بارش کے پانی اور سیوریج کے نظام کو الگ کیے بغیر سرینگر میں پانی جمع ہونے کے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید بارشوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے سرینگر کو شہری سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف اسمارٹ سٹی منصوبوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ نکاسی آب کے پورے نظام کی ازسرنو منصوبہ بندی، سیوریج اور برساتی پانی کی علیحدگی، غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے اور آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات ناگزیر ہیں۔










