چیف سیکرٹری نے مختلف محکموں میں بی آئی ایس اے جی۔این کے اشتراک سے جاری آئی ٹی اوراِی ۔ گورننس پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے مختلف محکموں میں بی آئی ایس اے جی۔این کے اشتراک سے جاری آئی ٹی اوراِی ۔ گورننس پروجیکٹوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر//چیف سیکرٹر اَتل ڈولونے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر حکومت کے مختلف محکموں میں بھاسکراچاریہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار سپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو اِنفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی ۔ این) کے اِشتراک سے جاری اِنفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور اِی۔گورننس پروجیکٹوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری آئی ٹی سوربھ بھگت،ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی۔این کے اسپیشل ونئے ٹھاکر، متعلقہ اِنتظامی سیکرٹریوں، مختلف محکموں کے سربراہان، سینئر پولیس اَفسران، نیشنل اِنفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے نمائندوں اور دیگر شراکت دار ایجنسیوں نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ جاری ڈیجیٹل گورننس پروجیکٹوں کی عمل درآمد کی صورتحال کا جامع محکمانہ جائزہ لیا گیا تاکہ رُکاوٹوں کی نشاندہی کی جا سکے، ٹائم لائنز کا جائزہ لیا جائے اور گورننس کو بہتر بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور عوامی خدمات کو مزید قابلِ رسائی، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے مقصد سے ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کی تکمیل کو تیز کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی حکمرانی میں اِصلاحات کا ایک بنیادی ستون ہے اور تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ تمام زیر اِلتوأ ماڈیولز کی بروقت تکمیل کے لئے بی آئی ایس اے جی ۔این کے ساتھ قریبی تال میل کو یقینی بنائئیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر ڈیجیٹل اقدام کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، طریقۂ کار کو آسان بنانا، جوابدہی میں اِضافہ کرنا اور شہریوں کو زیادہ سہولیت فراہم کرنا ہونا چاہیے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام ٹیکنالوجی پر مبنی پروجیکٹوں کا محور عوام کے لئے بہتر معیارِ زندگی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے جس کے لئے شفاف، مؤثر اور مقررہ مدت میں عوامی خدمات کی فراہمی ناگزیر ہے۔چیف سیکرٹری نے محکموں پر زور دیا کہ وہ پروجیکٹوں کی مقررہ مدت کی سختی سے پابندی کریں، مختلف محکموں کے ڈیٹا بیس کو باہم مربوط بنائیں، تکنیکی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنائیں اور جہاں ممکن ہو آرٹیفیشل اِنٹلی جنس (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجی کو اَپنائیں تاکہ حکمرانی کے نتائج مزید بہتر بنائے جا سکیں۔میٹنگ کوفائنانس ڈیپارٹمنٹ کے آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی جی ایس ٹی اینالیٹکس اور فراڈ ڈیٹیکشن پورٹل کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس پلیٹ فارم نے جدید تجزیاتی نظام اور دھوکہ دہی کی نشاندہی کے ذریعے ٹیکس قوانین کی تعمیل کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ پورٹل سے حاصل ہونے والے تجزیے کی بنیاد پرزائد اَز 4,300 نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں جن کے نتیجے میں سرکاری خزانے میں خاطر خواہ ریونیو کی وصولی ہوئی ہے۔ اس نظام میں رپورٹنگ ماڈیولز، ایکشن ٹیکن رِپورٹ کی نگرانی اور پروسسنگ صلاحیتوں کو بھی مزید بہتر بنایا گیا ہے۔پاور ڈیپارٹمنٹ کے اینڈ ٹو اینڈ انرجی ٹریکنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم (اِی اِی ٹی ایم ایس) کے بارے میں بتایا گیا کہ منصوبہ اب عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں لائیو ڈیش بورڈز، رول پر مبنی رسائی اور مینجمنٹ اِنفارمیشن سسٹم (ایم آئی ایس) رپورٹس بجلی کے شعبے سے وابستہ کارپوریشنوں میں فعال کی جا رہی ہیں۔ اے پی آئی پر مبنی ڈیٹا اِنٹگریشن اور خودکار الرٹ سسٹم بھی عملایاجا رہا ہے جبکہ آئندہ مراحل میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اور مشین لرننگ کے ذریعے بجلی کی طلب کی پیش گوئی، پیشگی مرمت اور مؤثر فیصلہ سازی کی سہولیات شامل کی جائیں گی۔میٹنگ میں محکمہ کان کنی کے لئے تیار کردہ اِنٹگریٹیڈ مائننگ سرویلنس سسٹم (آئی ایم ایس ایس) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبہ سیٹلائٹ امیج ، جیو سپیشل ٹیکنالوجی اور جی پی ایس کی مدد سے غیر قانونی کان کنی کی نشاندہی اور معدنیات لے جانے والی گاڑیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ ہزاروں معدنیاتی گاڑیوں کو پہلے ہی اس نگرانی کے نظام سے جوڑا جا چکا ہے جس سے خودکار الرٹس اور قانون کے مؤثر عمل آوری میں مدد ملی ہے۔محکمہ سکولی تعلیم میں اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ جے کے اِی۔پاٹھ شالہ ایجوکیشنل ٹیلی ویژن چینل چوبیس گھنٹے نصاب پر مبنی تعلیمی مواد نشر کر رہا ہے جس سے بالخصوص دُور دراز علاقوں کے طالب علموں کو معیاری تعلیمی وسائل تک بہتر رَسائی حاصل ہوئی ہے۔محکمہ سیاحت نے نئے ڈیزائن کردہ جے کے ٹورازم ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اِس پلیٹ فارم میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی چیٹ بوٹ، سیاحتی معلومات، سفری منصوبہ بندی، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی رجسٹریشن، اور ڈیجیٹل اَدائیگی کی سہولیات شامل کی گئی ہیں جس سے سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر کے سیاحتی مقامات کے فروغ میں مدد ملے گی۔میٹنگ میں محکمہ زراعت کے مختلف ڈیجیٹل اقدامات جن میں کسان خدمت گھر، کسان ساتھی، دکش کسان اور جے کے سی آئی پی پورٹل (جے ے سی آئی پی) شامل ہیں، کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان منصوبوں کا مقصد زرعی خدمات کو ڈیجیٹل بنانا، سرکاری سکیموں کے مؤثر عمل آوری، نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنا اور کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سہولیات فراہم کرنا ہے۔جے کے سما دھان عوامی شکایات کے ازالے کے پلیٹ فارم کا جائزہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کوجانکاری دی گئی کہ کہ نظام میں متعدد بہتریاں اور نئی سہولیات شامل کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ باقی ماندہ کام جلد مکمل کر کے عوامی شکایات کے اَزالے کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے زمینی ریکارڈ کی جدید کاری، جمعبندیوں کی ڈیجیٹلائزیشن، ورک فلو آٹومیشن اور انتقالِ اراضی کے نظام کی پیش رفت پیش کی جن کا مقصد ریونیو خدمات میں شفافیت، کار کردگی اور عوامی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔میٹنگ میں دیگر اہم ڈیجیٹل گورننس منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں سنگل وِنڈو سسٹم فار ریکروٹمنٹ رولز، یونیفائیڈ کوآپریٹیو ڈیش بورڈ، پی ایم اے وائی۔اربن 2.0 ہاؤس ہولڈ سروے ایپلی کیشن، مشن یووا موبائل ایپلی کیشن، جے کے صحت موبائل ایپلی کیشن، ڈِسٹرکٹ گڈ گورننس ڈیش بورڈ، ڈیجیٹل ڈائجسٹ آف سٹیٹسٹکس، وِلیج پلاننگ پورٹل، فیملی آئی ڈی پروجیکٹ، اِنڈسٹریل میپنگ ایپلی کیشن، فارسٹ اِی۔بیہک سسٹم، آنگن واڑی جی آئی ایس ٹریکنگ پلیٹ فارم، پی ڈبلیو ڈِی ڈیجیٹل پروجیکٹ مانیٹرنگ سسٹم، یوتھ انگیج منٹ پورٹل اور مختلف محکموں کے لئے تیار کئے جا رہے دیگر جی آئی ایس پر مبنی پلیٹ فارم شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری نے تمام زیر اِلتوأ اہداف کی جلد تکمیل، بین المحکمہ جاتی رابطے کو مزید مضبوط بنانے اور تمام جاری ڈیجیٹل گورننس پروجیکٹوں کا باقاعدہ جائزہ لینے کی ہدایت دی تاکہ انہیں پورے جموں و کشمیر میں بروقت فعال بنایا جا سکے۔