ٹرمپ کا دورہ چین، امریکی صدر یہاں بھی ہار گیا

تصور حسین شہزاد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے چینی صدر شی جن پنگ کیساتھ گفتگو بہت اچھی رہی، امریکا چین تعلقات دنیا کی تاریخ میں سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، چینی صدر کیساتھ انتہائی مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی، یہاں موجود ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔ صدر ٹرمپ نے بیجنگ میں تقریب سے خطاب اور ٹیمپل آف ہیون میں امریکی میڈیا سے گفتگو میں بتایا چینی صدر کیساتھ دو گھنٹے ملاقات رہی، ٹیمپل آف ہیون ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے۔ چین آئے امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے اور ایک اہم سیاحتی مرکز، ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی وہاں پہنچے اور دونوں رہنماؤں نے تصاویر بنوائیں۔ ایک مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا یہ ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ہے، چین خوبصورت ہے۔ قدیم عبادت گاہوں کا یہ وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کیلئے دعا کرتے تھے۔
ٹرمپ کے ہمراہ آنیوالے میڈیا کے نمائندوں نے دو مرتبہ سوال کیا کہ کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ہے، مگر ٹرمپ اور شی جواب دیئے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے۔ جب ایک رپورٹر نے پوچھا مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا انتظار کریں۔ قبل ازیں بیجنگ میں تقر یب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا امریکا چین تعلقات دنیا کی تاریخ میں سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، آج بہت بہترین دن ہے، چینی صدر میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا 24 ستمبر کو چینی صدر کو امریکا آنے کی دعوت دیتے ہیں، ہمارے پاس موقع ہے تعاون اور خوشحالی کے ایک بہتر مستقبل کی تخلیق کریں۔ ادھر امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق بیجنگ میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔ دوسری جانب چینی سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی صدر نے امریکا سے دو طرفہ تعلقات کی نئی سمت کو سراہا ہے۔
چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا تعمیری اور اسٹریٹجک طور پر مستحکم تعلقات قائم کریں گے، چین امریکا تعلقات کی نئی سمت 3 برس اور آگے بھی اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کریگی۔ تجارت، زراعت، صحت، سیاحت اور قانون نافذ کرنیوالے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، امریکا تائیوان کے مسئلے کو انتہائی احتیاط سے سنبھالے۔ چینی ٹی وی کے مطابق چینی اور امریکی صدور نے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور کوریا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔ بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دورہ چین کے موقع پر گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر استقبالیہ تقریب میں پہنچے جہاں چینی صدر نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔ چینی صدر نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا، کابینہ سے تعارف کرایا جس کے بعد چینی اور امریکی صدور گریٹ ہال آف دی پییل کی عمارت کے اندر چلے گئے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اور امریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونیوالے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔ چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے، اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے۔ چینی صدر کا کہنا تھا میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کیلئے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان، ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے۔
شی جن پنگ نے کہا ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کیساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے، تائیوان کا مسئلہ چین امریکا تعلقات میں سب سے اہم ہے، تائیوان کا مسئلہ درست طریقے سے نہ سنبھالا تو امریکا چین کشیدگی کی طرف جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا وہ اس دورے پر “دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس ملاقات کو “ابتک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کیساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنیوالی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے۔ ٹرمپ نے کہا ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔
بعدازاں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا چین امریکا تعلقات کیلئے تعمیری اسٹریٹجک استحکام کی نئی سمت پر اتفاق ہو گیا ہے، نئی سمت آئندہ 3 برس اور آگے کیلئے دو طرفہ تعلقات کی رہنمائی کریگی، چین امریکا کیساتھ مل کر اس نئی سمت کو عملی اقدامات میں بدلنے کو تیار ہے۔ ترجمان نے کہا تعلقات کو مستحکم، صحت مند اور پائیدار انداز میں آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں، چینی صدر نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکا تعلقات کا سب سے اہم معاملہ ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ درست طریقے سے سنبھالا گیا تو تعلقات میں استحکام رہے گا، تائیوان کا معاملہ درست طور پر سنبھالا نہ گیا تو چین اور امریکا ٹکراؤ کی جانب جا سکتے ہیں، تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن ایسے متضاد ہیں جیسے آگ اور پانی، آبنائے تائیوان میں امن و استحکام چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ مفاد ہے، امریکا کو تائیوان کے معاملے کو انتہائی احتیاط سے سنبھالنا ہو گا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر بیان میں ترجمان وائٹ ہاؤس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بارے میں کہا صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات اچھی رہی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اقتصادی تعاون بڑھانے کے مختلف طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق ملاقات کے دوران امریکا میں منشیات کے خام اجزا کی سمگلنگ روکنے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنما متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔ یہ وہ بیانات ہیں جو روایتی ہیں اور ہر ایسی ملاقات کے بعد جاری ہوتے ہیں، لیکن پر ان کا عمل کون کرئے گا، یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ ٹرمپ کے دورہ چین کو دیکھا جائے تو واضح دکھائی دے رہا ہے کہ ٹرمپ بیجنگ سے مایوس گئے ہیں۔ دوسرا ٹرمپ نے جاتے جاتے چینی تحائف کی توہین کر دی کہ ٹرمپ نے روانگی سے پہلے انہیں وہیں چین میں ہی ڈسپوز کر دیا اور کوئی ایک گفٹ بھی جہاز کے اندر نہیں لے کر گئے۔ یہ چینی قوم کو توہین ہے۔ اس پر دیکھیں چین کا محکمہ خارجہ کا ردعمل دیتا ہے، لیکن چین نے ٹرمپ کا استقبال بچوں سے کروا کر، اور انہیں زیادہ تر اچھلتے کودتے بچوں کیساتھ رکھ کر صدر شی نے پیٖغام دیا ہے کہ ایک بچہ بیچنگ کے دورے پر آیا تھا، اسے بچوں کیساتھ کھیل کود کروا کر رخصت کر دیا گیا ہے۔