سید مہدی نورانی
آج امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو خطے اور دنیا میں طاقت کی پیچیدہ ترین تبدیلی کا سامنا ہے۔ حقیقت پسند تجزیہ کار اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ہر عنوان، جیسے فتح یا محدود پیمانے پر فوجی کاروائی، کے تحت کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت یا خطے سے انخلاء اس وقت تک اسٹریٹجک لحاظ سے بے سود ہے جب تک اس کے ذریعے اسٹریٹجک آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول بحال نہیں ہو جاتا۔ آنے والے عشرے میں دنیا کے مستقبل پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ حتی بالفرض ایران کی قومی صلاحیتوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں بھی “مغربی معیشت کی اہم شریانوں کا یقینی طور پر بند ہو جانے” کا بڑا خطرہ مغربی حکومتوں اور بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قصہ تیل اور کیمیکل سپلائیز کے روایتی اعداد و شمار سے کہیں آگے پہنچ چکا ہے۔
نئے ایرانی آرڈر کے بنیادی ستون دنیا کے نقشے پر دو سنہری نقاط کے قدرتی تعلق پر استوار ہیں۔ آبنائے ہرمز پر تسلط اور حاکمیت کے ساتھ ساتھ باب المندب کے مطلق العنان حکمرانوں یعنی انصار اللہ یمن کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد نے ایک حیران کن نتیجہ ظاہر کیا ہے۔ اس تعاون نے اسلامی جمہوریہ ایران کو دنیا کی سیاسی معیشت کا فیصلہ کن ستون بنا دیا ہے۔ اس ڈاکٹرائن کی روشنی میں طاقت کی تعریف اب صرف وار ہیڈز سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار “عالمی رسائی” کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔ ایران کا اثرورسوخ اب سمندر کی گہرائیوں تک پھیل چکا ہے جہاں سے مواصلاتی کیبلز اور آپٹک فائبرز، مشرق اور مغرب کے درمیان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو آپس میں متصل کرتی ہیں۔
گذشتہ دہائیوں کے دوران مغرب اس بڑی غلط فہمی کا شکار رہا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی، جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کم کر سکتی ہے۔ لیکن نئے ایرانی آرڈر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جغرافیائی محل وقوع اب بھی “تعریف” کے قابل ہے۔ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں متبادل پائپ لائنیں بچھانے کی کوششیں، عالمی منڈی کی ضروریات کا محض چھوٹا سا حصہ برطرف کر سکتی ہیں، اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان بنیادی ڈھانچوں کی سیکورٹی بذات خود بھی اب ایران کی کاروائیوں کی زد میں ہے اور اس کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کے زیر سایہ ہے۔ اس انٹیلی جنس رسائی کا مطلب ایک “جیو پولیٹیکل ویٹو” کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں ایران یہ طے کرے گا کہ کون سی طاقت یا کون سا مال ان پانیوں سے گزرنے کا حق رکھتا ہے اور کون سا نہیں رکھتا۔
نیا ایرانی آرڈر “تیل کے بدلے سیکورٹی” کے دور کا خاتمہ ہے۔ خطے کے ممالک نے حقیقت پسندانہ سمجھ بوجھ کے ذریعے محسوس کیا ہے کہ امریکی حمایت کی چھتری اب مزید انرجی کی آمدورفت کو سیکورٹی فراہم کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اثرورسوخ کے اس زوال نے ایک وسیع جنگ کی ضرورت پیش آئے بغیر ہی خطے میں امریکہ کی موجودگی کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ کر دیا ہے اور علاقائی دارالحکومتوں کو تہران کی طاقت پر مبنی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نئے ایرانی آرڈر کا مطلب “توازن کی کوشش” کے مرحلے سے آگے بڑھ کر “کھیل کے اصول طے کرنے” کے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔
اس آرڈر میں:
1۔ ایران اس بات کا تعین کرے گا کہ بنیادی طور پر کون سا ملک اس جغرافیہ میں موثر انداز میں موجودگی رکھ سکتا ہے،
2۔ عالمی دولت اور توانائی کے بہاؤ کا گزرنا یا رک جانا علاقائی طاقت کے ہاتھ میں ہے،
3۔ سیکورٹی اب مغرب سے درآمد کردہ شے نہیں ہے بلکہ ایک ایسا محصول ہے جس کے لیے تہران سے سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔
“نیا ایرانی آرڈر” محض دعویٰ نہیں ہے بلکہ یہ ایک جغرافیائی اور عسکری حقیقت ہے جس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ مستقبل کی دنیا کے پاس اس حقیقت کو اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اور چاہے واشنگٹن میں ہوں یا تل ابیب میں، سب کو اس حقیقت کی عادت ڈال لینی چاہیے کہ آج کے بعد تہران علاقائی روڈ میپ تیار کرے گا۔ یہ ایک ایسا آرڈر ہے جس میں عالمی معیشت میں امن یا افراتفری کا براہ راست تعلق ایران کے قومی مفادات اور خودمختاری کے احترام سے ہو گا۔










