جموں//حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کیلئے ایک جامع رِی ہیبلی ٹیشن اور رِی سیٹلمنٹ اور آبادکاری پلان تیار کیا گیا ہے جس میں مقامی برادریوں پر پڑنے والے اثرات کی حد کو مدِ نظر رکھا گیا ہے ۔ وزیربرائے جاوید احمد رانا نے یہ بات آج ایوان میں ممبر اسمبلی پون کمار گپتا کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں بتائی ۔ وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے جواب دے رہے تھے ۔ اُنہوں نے کہا کہ بحالی کا پلان زمین مالکان کیلئے معاوضہ کی تدابیر اور تمام متاثرہ اضلاع کیلئے معیاری طریقوں کے مطابق بحالی اور آباد کاری کے متعدد حقوق پر مشتمل ہے ۔ وزیر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس منصوبے کے اجزأ جموں و کشمیر کے تین اضلاع رام بن، اودھمپور اور ریاسی میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں رام بن ضلع سب سے زیادہ زیر آب آ رہا ہے اوریہ یونین ٹیریٹری کا سب سے زیادہ متاثر ضلع بن کر اُبھرا ہے ۔ وزیر نے تینوں اضلاع میں پروجیکٹ کے مختلف اجزاء کی تفصیلات بتائیں ۔ سڑکوں کے رابطے کے سوال پر وزیر نے کہا کہ جموں شہر کو رام بن سے جوڑنے والی سڑک ایک آل ویذر روڈ ہے جس کی دیکھ بھال این ایچ اے آئی کی طرف سے کی جاتی ہے جبکہ رام بن سے زیرو موڑ تک کی سڑک کی تعمیر اور دیکھ بھال بارڈر روڈ آرگنائیزیشن کے تحت آتی ہے ۔ پنچیری ۔ لاندر ۔ گالیوٹ روٹ جو سب سے مختصر اور منطقی راستہ ہے ، کے بارے میں وزیر نے بتایا کہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تکنیکی طور پر ممکنہ اور کمرشل طور پر قابل عمل سائٹ کی شرائط کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور اسے بھارت سرکار کے وزارت بجلی ، سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی نے منظور کر لیا ہے ۔ اس میں پروجیکٹ کی تمام خصوصیات شامل ہیں جن میں مختلف پروجیکٹ کمپوننٹس تک رسائی کی سڑکیں بھی شامل ہیں ۔
25 اکتوبر کو کشمیر میراتھن کا تیسرے ایڈیشن
گریز میں حاملہ خاتون کی موت
مہاراشٹر، اڑیسہ اور جموں و کشمیر کے 25 آئی ٹی آئیز کی اپ گریڈیشن
شاردا نوراتری : ماتا ویشنو دیوی مندر پر زائرین کا بھاری رش
الیکشن کمیشن کی جانب سے ’قابلِ مطالعہ‘ ووٹر فہرستوں کے معاملے پر ’یو ٹرن‘ لینے کے بعد کانگریس کی تنقید
آل بانسبیڑیا اردو اسٹوڈینٹس کمیٹی کی جانب سے ایک کامیاب مضمون نویسی مقابلہ کا انعقاد
حج 2027: محرم کوٹے کے تحت 500 عازمین منتخب
کرگل خطے کے لوگوں کیلئے اہم انتظامی پیش رفت
حادثات اور خودکشی کی کوششوں کی روک تھام کیلئے اقدام
کسی بھی سرکاری افسر کی جانب سے توہین آمیز رویے کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں










