rajnath singh

آپریشن سندور تاحال مکمل نہیں ہوا بلکہ بھارت کی جرات، طاقت اور ضبط کی علامت

عالمی غیر یقینی صورتحال میں متوازن جواب،دہشت گردی کی سوچ کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی// راج ناتھ سنگھ

سرینگر/ یو این ایس // بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ آپریشن سندور تاحال مکمل نہیں ہوا اور بھارت کی جانب سے امن کیلئے کی جانے والی کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردی کو فروغ دینے والی سوچ کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔یو این ایس کے مطابق وہ جے پور کے ایس ایم ایس اسٹیڈیم میں منعقدہشوریہ سندھیا تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں بڑی تعداد میں عوام اور مسلح افواج کے اہلکار موجود تھے۔ اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن سندور کے ذریعے بھارت نے نہ صرف اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنے قومی کردار، ضبط اور ذمہ داری کا بھی ثبوت دیا ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائیاں انتہائی سوچ بچار، حکمت عملی اور انسانی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دی گئیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یہ آپریشن مستقبل میں محض ایک فوجی مہم کے طور پر نہیں بلکہ جرات، توازن اور اخلاقی ذمہ داری کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔وزیر دفاع نے مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب تک دہشت گردی کی سوچ زندہ ہے، بھارت کی سیکیورٹی فورسز الرٹ رہیں گی اور کارروائی کا عمل جاری رہے گا۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقصد صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن کا قیام ہے، تاہم اس امن کے راستے میں رکاوٹ بننے والی ہر سوچ اور ہر قوت سے مضبوطی سے نمٹا جائے گا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور عالمی سطح پر موجود غیر یقینی صورتحال کے درمیان بھارت کا ایک متوازن، ذمہ دارانہ اور موثر عسکری ردعمل تھا، جو تاریخ میں بھارت کی جرات، طاقت، تحمل اور قومی کردار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہایت منصوبہ بندی، محتاط جائزے اور انسانی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن سندور ابھی مکمل نہیں ہوا اور بھارت کی امن کے لیے کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردی کے نظریے کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ دشمن کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بھارتی مسلح افواج اتنی جرات اور سرعت کے ساتھ جواب دیں گی۔ راج ناتھ سنگھ کے مطابق مشکل حالات اور دباؤ کے باوجود بھارتی فوج نے جس صبر، اتحاد اور ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ بے مثال ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن کے دوران دیسی (مقامی) ہتھیاروں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ آتم نربھر بھارت* صرف فخر کی بات نہیں بلکہ قومی سلامتی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں بھارت کی دفاعی پیداوار 46 ہزار کروڑ روپے تھی، جو اب بڑھ کر 1.51 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ دفاعی برآمدات ایک ہزار کروڑ سے بڑھ کر تقریباً 24 ہزار کروڑ روپے ہو چکی ہیں۔یو این ایس کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت مسلح افواج کو بھارت کی ضروریات کے مطابق جدید، مقامی اور اعلیٰ معیار کے ہتھیاروں اور پلیٹ فارمز سے لیس کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کے پیش نظر بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج ایک واضح روڈ میپ کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، جس میں تبدیلی استحکام اور اعلیٰ کارکردگی کے مراحل شامل ہیں، اور ہدف یہ ہے کہ 2047 تک بھارتی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج بنایا جائے۔وزیر دفاع نے بھارتی فوج کو جرات، قربانی، نظم و ضبط اور اتحاد کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک مقصد کے تحت متحد ہو کر ملک کی خدمت کرتے ہیں، جو قومی یکجہتی کی مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قومی سلامتی کا ستون ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھارتی فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نہ صرف امن قائم کرتی ہے بلکہ دنیا بھر میں انسانی ہمدردی، طبی امداد اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب فوج میں خواتین کو مستقل کمیشن دیا جا رہا ہے اور نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے دروازے بھی خواتین کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ فوج میں شمولیت اختیار کریں اور جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیت، قیادت اور اخلاقی جرات کو بھی فروغ دیں۔