وادی میں امسال برفباری نا کے برابر

زرعی پیداوار اور پانی کے وسائل خطرے میں، مقامی آبادیوں کی زندگی متاثر

سرینگر// یو این ایس کشمیر میں، خاص طور پر کم بلندی والے علاقوں میں، برف باری میں مسلسل کمی معمول بن چکی ہے۔ چند دہائیوں قبل یہاں شدید سردیوں اور برف باری کا موسم معمول تھا، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارش اور برف باری کے انداز میں تبدیلی آئی ہے، جس سے مقامی زراعت اور آبادی کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابقاس سال بھی کشمیر برف باری کے واضح کمی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ بلند پہاڑی علاقوں میں معمولی برف باری ہوئی، لیکن سرینگر اور ارد گرد کے میدانی علاقوں میں برف کے ٹکڑے بھی نایاب ہیں۔ 2025 کے آخر اور جنوری کے پہلے ہفتے میں چند علاقوں میں برف باری ریکارڈ ہوئی، لیکن گزشتہ سالوں کے رجحان کے مقابلے میں یہ مقدار بہت کم تھی۔اسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اوانتی پورہ کے وائس چانسلر اور معروف ماحولیاتی سائنسدان پروفیسر شکیل رمشوو نے کہا کہ بلندی کی وجہ سے پہاڑوں کو میدانی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ برف باری ملنی چاہیے تھی، لیکن طویل مدتی تجزیے سے یہ واضح ہوا ہے کہ کشمیر میں سردیوں کے دوران برف کی مقدار مسلسل کم ہو رہی ہے۔پروفیسر رمشوو کے مطابق یہ تبدیلی بنیادی طور پر عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔کشمیر کی سردیوں میں اب زیادہ تر برف باری کی بجائے بارش ہوتی ہے اور برف کی کمی کے دنوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے مزید بتایا کہ خشک خزاں اور گرم سردیوں کے امتزاج سے گلیشیئرز پر برف کا جمع ہونا کم ہو رہا ہے، اور فروری اور مارچ کے مہینوں میں درجہ حرارت اکثر طویل مدتی اوسط سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گلیشیئر سے برف کا پگھلنا تیز ہو گیا ہے، جو پانی کی دستیابی، زراعت، اور ہائیڈرو پاور کے نظام پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔پروفیسر رمشوو کے مطابق گزشتہ دہائی میں کیے گئے فیلڈ مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ جموں، کشمیر اور لداخ کے گلیشیئرز تیز رفتاری سے پگھل رہے ہیں، جس سے پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور ہمالیائی ماحولیاتی نظام خطرے میں ہے۔ان کا کہنا تھا’’کشمیر میں اوسط درجہ حرارت گزشتہ صدی کے مقابلے میں 1.2 ڈگری سیلسیس بڑھ گیا ہے، جو علاقے کی حساسیت کو مزید بڑھاتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔‘‘ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ اگر برف باری کی کمی اور گلیشیئر کے پگھلنے کا یہ رجحان جاری رہا، تو نہ صرف مقامی آبادی کی زندگی متاثر ہوگی بلکہ زرعی پیداوار اور پانی کے وسائل پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔