کئی سیاحتی مقامات پر بے ہنگم تعمیرات، ماحولیاتی دباؤ اور ناقص سیاحتی نظم و نسق
سرینگر/// یو این ایس جموں و کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے دعوؤں کے برعکس، متعدد ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اب بھی ماسٹر پلان کے بغیر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث نہ صرف سیاحتی ترقی بے سمت ہو چکی ہے بلکہ ماحولیاتی توازن اور طویل مدتی منصوبہ بندی بھی شدید خطرے سے دوچار ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیے الگ ماسٹر پلان تیار کیا جائے تاکہ سیاحت کو منظم، پائیدار اور ماحول دوست بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔ یو این ایس کے مطابق اس فیصلے کے تحت محکمہ سیاحت نے 28 اکتوبر 2024 کو جموں و کشمیر ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر ماسٹر پلان کی تیاری سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔محکمہ سیاحت نے مشیروں کی تقرری پر آنے والے اخراجات، منصوبہ تیار کرنے میں درکار وقت، طریقہ کار اور متعلقہ دستاویزات کے بارے میں وضاحت مانگی تھی۔ ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تمام مطلوبہ تکنیکی معلومات فراہم کر دیں، تاہم اس کے بعد محکمہ سیاحت کی جانب سے کوئی فالو اپ نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، نہ تو کسی کنسلٹنٹ کی تقرری عمل میں لائی گئی، نہ ہی منصوبے کی تیاری کے لیے کوئی ٹائم لائن طے کی گئی اور نہ ہی اس مقصد کے لیے فنڈز منظور کیے گئے۔ یہ صورتحال اس کے باوجود برقرار ہے کہ 19 فروری 2025 کو ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں ماسٹر پلان کو سیاحت کی منظم ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔ذرائع نے خبردار کیا کہ ماسٹر پلان کے بغیر ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز ایک طرح کے ‘‘ریگولیٹری خلا’’ میں کام کر رہی ہیں، جہاں فیصلے طویل مدتی وڑیژن کے بجائے وقتی دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ کئی سیاحتی مقامات پر بے ہنگم تعمیرات، ماحولیاتی دباؤ، سہولیات پر اضافی بوجھ اور ناقص سیاحتی نظم و نسق کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق مزید بتایا گیا کہ ماسٹر پلان کے بغیر نہ تو ایکو سینسیٹو زونز کا تعین ممکن ہے، نہ سیاحتی بوجھ کا سائنسی انداز میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی زمین کے استعمال کے واضح اصول بنائے جا سکتے ہیں، جو پائیدار سیاحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ذرائع نے واضح کیا کہ اکتوبر 2024 کا خط ایک اہم اصلاحی قدم ثابت ہو سکتا تھا، مگر یہ بھی محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں سیاحت کو اقتصادی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے، ماسٹر پلان کی مسلسل عدم موجودگی حکومتی دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان خطرناک خلا کو ظاہر کرتی ہے۔واضح رہے کہ ماسٹر پلان کا بنیادی مقصد 20 سے 25 سالہ طویل مدتی وڑن کے تحت ترقی کو منظم کرنا، ماحولیات کا تحفظ یقینی بنانا اور شہری و دیہی علاقوں میں متوازن ترقی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر اس سمت میں فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو جموں و کشمیر میں سیاحتی ترقی ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔










