پی ڈی ڈی کی جانب سے میٹر اور بغیر میٹر والے علاقوں میں کٹوتی کاسلسلہ شروع کردیاگیا

ڈورہ اننت ناگ میں صارفین کے بجلی کنکشن منقطع ،بجلی فیس میں اضافہ کرنے کاصارفین نے لگایاالزام

سرینگر//اے پی آئی// پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے بجلی کٹوتی کاسلسلہ شروع کردیاگیاہے میٹراور بغیر میٹر والے علاقوں میں تین سے چھ گھنٹے بجلی منقطع رہے گی ،جبکہ پی ڈی ڈی کی جانب سے اضافہ کرنے والے صارفین کاکنکشن منقطع کرنے کاسلسلہ شروع کیاگیاہے۔ جنوبی کشمیر کے ڈوروں اننت ناگ میں تین ہزار کے قریب صارفین کے بجلی کنکشن فیس ادا نہ کرنے کی صورت میں منقطع کئے گئے ۔ادھروادی کے اطرا ف اکناف سے صارفین شکایت کررہے ہیں کہ بجلی فیس میں اضافہ کردیاگیا ہے۔ اے پی آ ئی نیوز کے مطابق دعوں وعدوں کے بعد پی ڈی ڈی محکمہ نے کٹوتی کا لامنتہائی سلسلہ شروع کردیاہے اور اس پر من وعن عمل بھی ہورہی ہے۔ صارفین کے مطابق میٹروالے علاقوں میں تین گھنٹے او ربغیر میٹروالے علاقوں میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مطابق چھ گھنٹے برقی رو منقطع رہے گی تاہم صارفین کے مطابق بغیرمیٹروالے علاقوں میں چھ سے آٹھ گھنٹے اور میٹروالے علاقوں میں تین سے پانچ گھنٹے بجلی منقطع رہتی ہے اور یہ سلسلہ وادی کشمیرمیں پچھلے کئی دنوں سے شرو ع کیاگیاہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق سردیوں کے ایام میں بجلی کی کٹوتی روایت کے مطابق ہرسال ہوا کرتی ہے تاہم رواں جھاڑے کے موسم میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے دعویٰ کیاتھاکہ تین ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کرکے صارفین کو فراہم کی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے بھی سرینگر میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران انکشاف کیاتھاکہ گرمائی دارلخلافہ سرینگر کے 48علاقوں میں 24×7بجلی دستیاب رہے گی تاہم پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بجلی کی کمی کودو رکرنے کے لئے سمارٹ میٹروالے علاقوں میںبھی کٹوتی کاسلسلہ شروع کردیاہے ۔ پی ڈی ڈی کی جانب سے وادی کشمیرکوتین زونوں میںتبدیل کیاگیاہے اوراسی کے مطا بق برقی رو فراہم کی جاتی ہے ۔جن علاقوں کے صارفین ہرماہ باقائدگی کے ساتھ بجلی فیس اداکرنے کی کوشش کررہے ہیں انہیں تین سے چار گھنٹے اور جن علاقوں کے صارفین بجلی فیس باقائدگی کے ساتھ اد انہیں کررہے ہیں انہیں چھ سے آٹھ گھنٹے تک بجلی منقطع رہتی ہے، جبکہ پی ڈی ڈی نے ان صارفین کے کنکشن منقطع کرنے کابھی سلسلہ شروع کیا ہے جن کافیس کئی ماہ سے بقایا ہے ۔ڈوروں اننت ناگ علاقے میں لوگوں نے الزام لگایاکہ تین ہزا رکے قریب بجلی کنکشن منقطع کئے گئے ہیں ۔اگرچہ صارفین نے مہلت مانگی تھی کہ وہ آ نے والے ماہ کے دوران تمام بجلی فیس اد اکرینگے تاہم ان کی ایک نہ سنی گئی اور پارور ڈیولپمنٹ کے ملازمین نے حکام بالا کی ہدایت پر کنکشن منقطع کردیئے ۔ادھرعوامی حلقوں نے اس بات کابھی انکشاف کیاکہ جن علاقوں کے ٹرانسفا رمر بیکار ہوتے ہے وہاں قوائدو ضوابط کے تحت فوری طور ٹرانسفارمروں کونصب نہیں کیاجارہاہے بلکہ پندرہ دنوں سے زیادہ صارفین کوٹرانسفا رمر دوبارہ نصب ہونے کاانتظار کرنا پڑتاہے۔ حال ہی میں ڈویژنل کمشنرکشمیر نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران لوگوں کویقین دلایاتھاکہ سردیوں اور برفباری کے دوران انہیں کسی بھی مشکل کاسامنا نہیں کرناپڑیگا جن علاقوں کے ٹرانسفا رمر بیکارہونگے انہیں 24گھنٹوںکے اندار اندر نئے ٹرانسفر مر علاقوں میں نصب کرائے جائینگے ،تاہم عوامی حلقوں کے مطابق صوبائی کمشنرکایہ بیان ان کے دفتر تک محدو دہے او رپی ڈی ڈی اپنے طرز پرخدمات انجام دے رہاہے ۔جن صارفین کے بجلی کنکشن منقطع کئے گئے انہوںنے وزیراعلیٰ جو اس محکمہ کے وزیربھی ہیں سے مطالبہ کیاکہ ان کے بجلی کنکشن دوبارہ بحال کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے اورصارفین کودو سے تین ماہ مہلت دے دی جائے تاکہ وہ اپنابجلی فیس ا کرسکے ۔