30سال میں پہلی بار بنا کسی دباو کے ووٹنگ ، نہ ہڑتالی کال نہ ہی ہڑتال رہی

سرینگر// جموںو کشمیر میں گزشتہ تیس سال کے نا مسائد کے پیچ پہلی بار بنا کیسی دباو ،ہڑتالی کال ہڑتال کے بغیر لوگوں نے انتخابات میں حصہ لیا ہے ۔ انتخابات کو پر امن طور منعقد کرانے کے لئے یہاں جگہ جگہ پر حفاظت کے انتطامات کئے گئے تھے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق وادی کشمیر میں گزشتہ30سال کے وقت کے دوران پہلی بار کسی انتخاب کے دوران کسی بھی جماعت کی جانب سے نہ ہی کوئی ہڑتالی کال اور ناہ ہی ہڑتال رہی ہے جبکہ لوگوں نے کئی دہائیوں کے بعد بلا کسی دباو کے اپنے ووٹ کا ستعمال کیا ۔ پہلا موقع ہے جبکہ وادی کشمیر میں مختلف بزاروں کھلے رہے ہیں۔کچھ مقامات پر سینئر ووٹران نے بتایا کہ انہوں نے آج تیس قبل کا وہ وقت یاد کیا ہے جب ہم ایک آزاد ماحول میں اپنے من پسند امیدوار کا ووٹ ڈالتے تھے انہوں نے کہا میں یہ نہیں بتاوں گا کہ میں نے کس کو ووٹ دیا لیکن یہ ضرور بتائوںگا کہ پہلے ہم اسی طرح ووٹنگ کے لئے جاتے تھے تاہم بعد میں یہاں خراب حالات کی وجہ سے ووٹ ڈالنے سے لوگ ڈرتے تھے جبکہ مختلف جماعتوں کی جانب سے یہاں ہڑتالی کالیں دی جاتی تھیں اور تمام بازار یہاں بند رہتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر فائرنگ ہوتی تھی جس کی وجہ سے بعد میں لوگ نہیں نکلتے تھے جس کی وجہ سے ایسے امیدواروں نے کرسیوں پرقبضہ جما لیا ہے جو اکثریت کو منظور نہیں تھے یہاں یہا بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر لوک سبھا نشست پرپیر کے روز ووٹنگ بہتر انداز میں ہوئی ہیجبکہ ہر علاقے میں پولنگ پر امن طور اختتام پزیر ہوئی ۔