کہا،ہمیں ایک سچے کرم یوگی شری وِجے بہادر سنگھ جی کے نظریات کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانا ہوگا
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے منگل کے روز ہندوستان کی تعمیر پر زور دیا جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی نے دیکھا تھا اور جس میں ہر طبقہ اور ہر فرد ترقی کے مرکزی دھارے کا حصہ ہو۔اُنہوں نے کہا،’’ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک بننے کی طرف مضبوطی سے گامزن ہے۔ 2047 کا ہدف صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ ایک قومی عزم ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر اُتر پردیش کے غازی پور میں معروف سماجی کارکن اور مہامندلیشور شری بال کرشن یاتی اِنٹر کالج کے بانی شری وِجے بہادر سنگھ کے مجسمہ کی نقاب کشائی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اُنہوں نے شری وِجے بہادر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے بغیر کسی توقع کے اَپنے فرائض انجام دئیے، شہرت کی خواہش کے بغیر خدمت کی اور اَپنے لئے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے تعمیر کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک سچے کرم یوگی شری وِجے بہادر سنگھ جی کے نظریات کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانا چاہیے۔منوج سِنہا نے کہا،’’ میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ شری وِجے بہادر سنگھ جی نے یہ نہیں پوچھا کہ بندراوَن ان کے لئے کیا کر سکتا ہے بلکہ اُنہوں نے یہ دکھایا کہ بندراوَن اور جھکانیاخطہ اَپنے لئے کیا کر سکتا ہے۔ یہ اِنٹر کالج جو عوامی تحریک سے وجود میں آیا، ان کے انقلابی کاموں کی ایک چھوٹی سی علامت ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’شری وِجے بہادر سنگھ جی نے صرف ایک کالج قائم نہیں کیا بلکہ ایک عہد کیا۔اُنہوں نے جب 1974 میں اس اِدارے کی بنیاد رکھی تو نہ کوئی بڑی مالی مدد تھی اور نہ ہی کامیابی کی کوئی یقین دہانی۔ ان کے پاس صرف یہ یقین تھا کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو معاشرے کو بدل سکتی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں خدمت ، قربانی اور قوم کی تعمیر کے بارے میں بات کی۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ترقی کو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ہر دہلیز تک پہنچایا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کروڑوںکنبے جن کے پاس کبھی چھت نہیں تھی، آج ان کے اَپنے گھر ہیں جس سے انہیں معاشرے میں وقار اور تحفظ حاصل ہوا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہر گاؤں تک سڑکیں پہنچ چکی ہیں، ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی ہوگئی ہے، ڈیجیٹل اِنقلاب نے معاشرے کے ہر طبقے کو جوڑ دیا ہے۔ آج پسماندہ طبقے کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں، ان کی شناخت ہے اور وہ مالی لین دین کے لئے سمارٹ موبائل فون اِستعمال کر رہے ہیں۔میری نظر میں یہ محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ سماجی بااختیاریت ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا،’’ملک کے دُور دراز علاقوں میں نئے سکول، نئی یونیورسٹیاں اور نئی تعلیمی پالیسی مل کر ایسے ہندوستان کی تعمیر کر رہی ہیں جس میں مستقبل کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میںہے۔ لڑکیوں کے لئے بالخصوص جو سہولیات اَب دستیاب ہیں وہ ہماری تاریخ میں بے مثال ہیں اور تعلیم کا مقصد اَب صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ باشعور اور ذِمہ دار شہری تیار کرنا ہے۔‘‘










