25فیصدسبسڈی والے شمسی پینل کی تنصیب کی مانگ میں اضافہ

ماہانہ بجلی بل کے بوجھ سے بچنے کی سبیل ،سبسڈی دینے کے اعلان کے بعد سولرپینل کاروبارمیں بہتری :تاجر

سری نگر// جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر شمسی توانائی کے پینلز کی تنصیب پر 25 فیصد سبسڈی دینے کے اعلان کے بعد وادی کشمیر میں چھتوںپر شمسی پینل کی تنصیب کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیارپورٹ میں کہاگیاہے کہ شمسی پینل کی تنصیب کی مانگ میں اضافے کی ایک وجہ بجلی کی کمی کیساتھ ساتھ کشمیر میں ماہانہ بجلی کے بل میں بھاری اضافہ ہے۔ کیونکہ کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ وادی کو کل 1700 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔وادی میں لوگ ان دنوں توانائی کے بیک اپ کے طور پر اپنی چھتوں پر شمسی پینل لگا رہے ہیں، جب حکومت نے تمام اضلاع میں رہائشی عمارتوں پر شمسی توانائی کے پینل لگانے کیلئے پروجیکٹ لاگت کا 25 فیصد سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ نومبر 2023 کے آخر تک مکمل ہونا ہے تاہم اس کے شروع ہوتے ہی لوگوں نے اس کی طرف رجحان ظاہر کیا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق سری نگر میں سولر پینل فروخت کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ ان کا کاروبار گزشتہ2سالوں سے خسارے میں چل رہا تھا لیکن انتظامیہ کی جانب سے سولر پینل لگانے کیلئے سبسڈی دینے کے اعلان کے بعد اس میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت سبسڈی دے رہی ہے، جس کی وجہ سے ان سولر پینلز کی مانگ میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارا کاروبار، جو2 سال سے خسارے میں چل رہا تھا، اب بہتر نظر آ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں اس وقت درجنوں برانڈز شمسی توانائی سے چلنے والے آلات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے استعمال سے بجلی کی کمی پر قابو پایا جا رہا ہے اور ساتھ ہی وہ سستے بھی ہیں۔جموں و کشمیر انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی کے حکام کے مطابق جموں وکشمیر میں شمسی توانائی کو فروغ دینے کیلئے کئی پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو سبسڈی کے ساتھ شمسی توانائی پر مبنی آلات استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ایک اہلکار نے کہاکہ کئی اور مسائل زیر غور ہیں۔ ایجنسی جلد ہی شمسی توانائی سے چلنے والے آلات کے ڈیلرز کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ ایک میٹنگ منعقد کی جائے گی اور زیر التوا ء مسائل کو بھی حل کیا جائے گا۔