Weather

24اور25جنوری کوبھاری برف باری،26جنوری تک موسم جوںکاتوں :محکمہ موسمیات

سری نگر//محکمہ موسمیات کی جانب سے26جنوری تک موسمی صورتحال جوں کی توںرہنے کی پیش گوئی کے بیچ جمعہ اورہفتے کی درمیانی رات سری نگر سمیت جنوبی کشمیرکے میدانی اوربالائی علاقوں میں ہلکی برف باری ہوئی ،تاہم شمالی کشمیرمیں مطلع ابرآلود مگرخشک رہا۔اس دوران گزشتہ رات سری نگر اور قاضی گنڈ کے بغیر باقی سبھی مقامات پر شبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہاجبکہ ہفتے کومطلع ابرآلودرہنے کے باوجود سردی کی شدت قدرے کم رہی ۔اُدھر پانتھال رام بن کے مقام پر نزدیکی پہاڑ سے پتھر اورمٹی کے تودے گرآنے کے باعث حکام نے ہفتے کی صبح سری نگر جموں قومی شاہراہ کودونوں اطراف سے گاڑیوںکی آمدورفت کیلئے بند کردیا،اور سہ پہر قومی شاہراہ بندہی رہی ۔خیال رہے حالیہ برف باری کے بعدسے سری نگر لیہہ شاہراہ اورتاریخی مغل روڑ کوتاحکم ثانی بند کردیاگیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جمعہ کے روز آسمان پر بادل چھائے رہنے مگر موسم خشک رہنے کے بعد دوران شب سری نگر اورجنوبی کشمیر کے میدانی اوربالائی علاقوںمیں ہلکی برف باری ہوئی ۔حکام نے ہفتہ کو بتایاکہ کشمیروادی کے بیشتر حصوں میں کم سے کم درجہ حرارت میں کمی کے درمیان کشمیر کے کچھ علاقوں میں وقفے وقفے سے ہلکی برف باری ہوئی۔انہوںنے بتایاکہ خراب موسم کی وجہ سے سری نگر جموں قومی شاہراہ کو بھی بند کرنا پڑا۔حکام نے بتایا کہ وادی کشمیر کے کچھ علاقوں، خاص طور پر بالائی علاقوں میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات تازہ ہلکی برف باری ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہفتہ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد کوکرناگ میں8 انچ، قاضی گنڈ میں 6انچ اور شوپیاں میں 4 انچ برف پڑی جبکہ سری نگر، گاندربل اور میدانی علاقوں میں کچھ دوسرے علاقوں میں بہت ہلکی برفباری ہوئی۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کے کچھ دوسرے علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی۔حکام نے بتایا کہ سری نگر جموں قومی شاہراہ،جوکشمیروادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی سڑک ہے، پانتھال میں پتھراورمٹی کے تودے گرآنے کی وجہ سے ٹریفک کیلئے ہفتہ کی صبح بند کر دی گئی ۔اس دوران ٹریفک پولیس محکمہ نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ہفتہ کی سہ پہر3بجے پتھر گرآنے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہاکہ ابھی سری نگرجموں قومی شاہراہ ٹریفک کی آمدورفت کیلئے دونوں اطراف سے بند پڑی ہے ۔حکام نے کہا کہ پتھر گرآنے کاسلسلہ رک جانے اورشاہراہصاف ہونے کے بعد ٹریفک بحال ہو جائے گا۔اس دوران سری نگر اور قاضی گنڈ کو چھوڑ کر جمعہ کی رات کشمیرکی باقی تمام جگہوں پرشبانہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہا۔انہوںنے بتایاکہ دوران شب سری نگرمیں پارہ 0.2ڈگری سینٹی گریڈ اورقاضی گنڈمیں0.4ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈکیاگیا۔حکام نے بتایاکہ جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.9 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جبکہ کپواڑہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.8 ڈگری پر رہا۔اُدھر جنوبی کشمیرمیں واقع سیاحتی مقام پہلگام میںکم سے کم درجہ حرارت منفی3.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیاجبکہ بارہمولہ ضلع کے سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی8.4 ڈگری سینٹی گریڈ رہا،اور گلمرگ جموں و کشمیر کا سرد ترین مقام تھا۔محکمہ موسمیات نے رواں موسمی صورتحال میں ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے جمعہ کوکہاتھاکہ جموں وکشمیرمیں کہیں ہلکی توکہیں درمیانی سے بھاری برف باری کاسلسلہ 26جنوری تک جاری رہنے کاامکان ہے ۔سری نگرمیں قائم محکمہ موسمیات کے علاقائی مرکزکی جانب سے جمعہ20جنوری کودن کے12بجے تازہ موسمیاتی صورتحال یعنی تغیروتبدل کے حوالے سے ایک اَپ ڈیٹ جاری کی گئی ۔محکمہ موسمیات نے کہاتھاکہ جمعہ کومخصوص مقامات پرمطلع ابرآلودرہنے کے بیچ ہلکی بارش اور برف باری کاسلسلہ جاری رہے گا۔محکمہ ھٰذانے کہاکہ جمعہ کے روزرواں موسمی صورتحال میںکسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔محکمہ موسمیات کے ایک ذمہ دار کاکہناتھاکہ 21سے 24 جنوری تک عام طور پر مطلع ابرآلود رہنے کے بیچ میدانی علاقوںمیں وسیع پیمانے پر برف باری اوربارش(جموں) ہونے کاامکان ہے ۔انہوںنے بتایاکہ 24سے25جنوری کے درمیان جموں میں درمیانی بارش ہونے کیساتھ ساتھ خطہ پیرپنچال کے آرپار بالائی مقامات پر درمیانی سے بھاری برف ہونے کے 60فیصد امکانات ہیں جبکہ 26جنوری کوجموں صوبے میں درمیانی بارش اور کشمیر کے خطے میں ہلکی برف باری ہونے کا60 فیصدتک امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کے ذمہ دار کامزید کہناتھاکہ مجموعی طور پر جموں وکشمیرمیں 20سے26جنوری کے دوران مطلع ابرآلودرہنے کے بیچ وقفے وقفے سے بارش وبرف باری کے ساتھ موسم کے بے ترتیب رہنے کا امکان ہے۔انہوںنے خطہ پیرپنچال کے تقریباًایک درجن سے زیادہ اضلاع کے بالائی علاقوںمیں برف تودے گرآنے کااندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ برفباری والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو ایک بار پھر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں سفر کرتے ہوئے چوکس اور محتاط رہیں جو برفانی تودے کے خطرے سے دوچار ہیں۔