221 پنچایتوں میں کھیل کے میدان موجود ہیں اور ڈورو سٹیڈیم کی 1036کروڑ روپے کی اَپ گریڈیشن زیر غور ہے۔ ستیش شرما

221 پنچایتوں میں کھیل کے میدان موجود ہیں اور ڈورو سٹیڈیم کی 1036کروڑ روپے کی اَپ گریڈیشن زیر غور ہے۔ ستیش شرما

سری نگر//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین ،اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ، امورِ نوجوان و کھیل کود اور سائنس و ٹیکنالوجی محکمہ جات ستیش شرما نے آج ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر کی 355 گرام پنچایتوں میں سے 221 میں’’ایک پنچایت۔ایک کھیل میدان‘‘اقدام کے تحت یا تو پہلے سے موجود کھیل کے میدان ہیں یا پھر نئے تعمیر کئے گئے ہیں۔وزیرموصوف رُکن اسمبلی جی اے میر کی طرف سے ’’ایک پنچایت۔ایک کھیل میدان‘‘منصوبے کی عمل آوری اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے و تجویز کردہ میدانوں کی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے دیہی ترقیات محکمے سے موصولہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے تحت آنے والی 355 گرام پنچایتوں میں سے 221 میں کھیل کے میدان موجود ہیں جو یا تو پہلے سے قائم تھے یا پھر نئے تعمیر کئے گئے ہیں۔ستیش شرما نے ڈورو حلقہ کی تفصیلات دیتے ہوئے ایوان کومطلع کیا کہ 66 گرام پنچایتوں میں سے 37 میں کھیل کے میدان موجود ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ امورِ نوجوان و کھیل کود گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈورو حلقے میں دو کھیل میدان منصوبوں پر کام کر چکا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اے ڈِی وِی روڈ باتھونو کے قریب لارکی پورہ میں کھیل کا میدان جو 2024-25 کے دوران 48.55 لاکھ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ شنگرین میں ایک اور کھیل میدان 2026-27 کے دوران نئے کام کے طور پر شروع کیا گیا ہے جس کی تخمینہ لاگت 80 لاکھ روپے ہے۔اُنہوںنے بتایا کہ دیہی ترقیات محکمہ اننت ناگ کی جانب سے وی بی۔جی آر اے ایم۔جی کے تحت اے اے پی 2026-27 میں 26 کھیل میدان مقامات کی منظوری دی گئی ہے جہاں محکمہ ریونیو کی جانب سے مناسب سرکاری اراضی فراہم کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ امورِ نوجوان و کھیل کود کی جانب سے کھیل کے میدانوں کی تعمیر و ترقی کا کام تمام ضروری ضابطوں کی تکمیل کے بعد کیا جاتا ہے جن میں ہر قسم کے تنازعات یا رُکاوٹوں سے پاک اراضی کی دستیابی، اراضی کی منتقلی اور فنڈز کی دستیابی شامل ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ڈورو حلقے میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو جموں و کشمیرسپورٹس کونسل اور ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے ذریعے بتدریج بہتر اور اَپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ حلقے میں کھیلوں کی چار بڑی سہولیات تیار یا بحال کی جا رہی ہیں جن میں سپورٹس سٹیڈیم ڈورو شامل ہے جو چینج روم کم پویلین، کرکٹ مقابلہ پچ، نیٹ پریکٹس پچ، چین لنک باڑ، مرکزی گیٹ اور ڈگ آؤٹس سے آراستہ ہے۔ اِس کے علاوہ ویری ناگ میں کھیل کا میدان کی تعمیر وترقی کا کام جاری ہے جس میں چینج روم کم پویلین، کرکٹ مقابلہ پچ، نیٹ پریکٹس پچ، چین لنک فینسنگ،مین گیٹ، ڈگ آؤٹس اور میکنیکل رولرجیسی سہولیات شامل ہیں۔اُنہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ قمر شہباد بلاک ویری ناگ کا کھیل میدان کی مینی ٹیننس جموں و کشمیر سپورٹس کونسل کر رہی ہے جبکہ بھاہی بچو ہلر کا کھیل میدان کرکٹ مقابلہ پچ، نیٹ پریکٹس پچ اور چین لنک فینسنگ کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ستیش شرمانے بتایا کہ سپورٹس سٹیڈیم ڈورو کی اَپ گریڈیشن کے لئے 1,035.98 لاکھ روپے مالیت کا ڈِی پی آر تیار کیا گیا ہے جو فی الحال محکمے کے زیرِ غور ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ کاموں میں چینج روموںکے ساتھ پویلین عمارت، کینوپی کے ساتھ بیٹھنے کی نشستیں ، کرکٹ مقابلہ پچیں، نیٹ پریکٹس پچیں، ڈگ آؤٹس، مصنوعی والی بال کورٹ، میکنیکل رولر اور فلڈ لائٹس شامل ہیں۔اُنہوں نے سائیں/ساگم، سادیواڑہ، چوگنڈ، قمر، دودوانگن، اکنگام، ہلر کوکرناگ اور دیگر نشاندہی شدہ مقامات پر کھیل کے میدانوں کی تعمیر و ترقی کی تجاویز کے حوالے سے کہا کہ ان مقامات پر اراضی کی منتقلی اور ترقیاتی کاموں کے لئے غور و خوض جاری ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ محکمہ امورِ نوجوان و کھیل کود کو اَراضی کی منتقلی کا عمل ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ جاری ہیجبکہ سادیواڑہ اور ہلر کوکرناگ کے معاملے میں اراضی کی منتقلی کا عمل ابھی شروع ہونا باقی ہے۔وزیرموصوف نے کہا کہ زمین کی تیاری اور منتقلی کے عمل مکمل ہونے کے بعدمحکمہ فنڈز، اراضی اور فزیبلٹی کی دستیابی سے مشروط مطلوبہ ترقیاتی کاموں پر غور کرے گا۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ سائین ساگم کھیل میدان کی ترقی کے لئے 150 لاکھ روپے مالیت کا ڈی پی آر تیارکیا گیا ہے جس میں کٹائی اور بھرائی کے ذریعے میدان کی توسیع، حفاظتی کام، بیٹھنے کی نشستیں، کرکٹ مقابلے کی پچیں، نیٹ پریکٹس پچیں اور ایک مصنوعی والی بال کورٹ شامل ہیں۔