نئی دہلی/یو این آئی// مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد اور قومی ترقی کیلئے وقف ہے ، نہ کہ جنگ کیلئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اورصاف ستھری بجلی کی دستیابی کو بڑھانے میں ایٹمی توانائی کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک نے 2047 تک ایٹمی بجلی کی پیداواری صلاحیت 100 گیگا واٹ تک پہنچانے اور 2070 تک ‘نیٹ زیرو’ اخراج حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ ‘بلومبرگ اکانومی فورم 2026’ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ایٹمی توانائی مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل اور بڑی مقدار میں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے ، ایسے میں ایٹمی توانائی قابلِ اعتماد اور صاف ستھری بجلی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے ہندوستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر ہومی بھابھا کی فکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے شروعات ہی سے ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال پرامن کام اور ترقی کیلئے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئی تکنیکی ضروریات اور ترقی کے چیلنجوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہندوستان اپنی ایٹمی توانائی کی صلاحیت میں توسیع کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی دیگر توانائی کے ذرائع کی معاون ہوگی اور ملک کو مسلسل صاف ستھری بجلی کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ یہ ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف اور صاف ستھری توانائی سے متعلق عزم کو پورا کرنے میں بھی مدد کرے گی۔ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اے آئی کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے ۔ خلائی تحقیق، لائف سائنسز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں بھی اس کا استعمال بڑھے گا۔ انہوں نے کہا، “آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرنے کیلئے خود بھی سمجھدار ہونا ضروری ہے ۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ اس کیلئے قوانین و ضوابط کے ساتھ ساتھ فرد اور ملک کی سطح پر ایمانداری اور ذمہ داری لازمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے اس سمت میں اہم اقدامات کیے ہیں۔










