2022 کامیابیوں کاسال،پاکستانی حمایت یافتہ آن لائن دہشت گردی ایک چیلنج

42 غیر ملکیوں سمیت172 ملی ٹنٹ ہلاک:100نئی بھرتیاں،65ہلاک،17گرفتار،18کی تلاش:وجئے کمار

سری نگر//ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجئے کمار نے سال2022میں ملی ٹنٹ گروپوںاوراُنکے حامیوںکیخلاف روبہ عمل لائی گئی کارروائیوں کیساتھ ساتھ منشیات فروشوں اور سائبر جرائم کیخلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ہفتہ کوبتایاکہ پاکستانی حمایت یافتہ آن لائن دہشت گردی اب ایک چیلنج ہے،جسکے ذریعے جعلی خبریں پھیلائی جاتی ہیں،گمراہ کن پروپگنڈاکیاجاتاہے اورکشمیرمیں کام کرنے والے صحافیوں اورشہریوںکودھمکیاں دی جاتی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق اے ڈی جی پی کشمیر وجئے کمار کے حوالے سے کشمیرزون پولیس نے ہفتہ کو ایک کے بعدایک کئی ٹویٹس کئے ۔ایک ٹویٹ میں اے ڈی جی پی کشمیرنے کہاکہ جعلی خبریں،پروپیگنڈہ پھیلانا اور آن لائن پورٹل (کشمیر فائٹ) کے ذریعے صحافیوں وشہریوں کو نشانہ بنانے وال سازشوںکاسدباب کرنے کیلئے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سائبر پولیس اسٹیشن کشمیر کو 2022 میں آن لائن جرائم جیسے مالی دھوکہ دہی، سوشل میڈیا جرائم، موبائل گمشدگی، سائبر بلنگ، جنسی استحصال وغیرہ سے متعلق سینکڑوں شکایات موصول ہوئیں،اوراس دوران شہریوںکے3 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی گئی جبکہ ان گھوٹالوں میں ملوث ملزمان سے لاکھوں روپے مالیت کے تقریباً 500 موبائل بھی برآمد ہوئے۔اے ڈی جی پی کشمیرنے کہاکہ سال2022میں سائبر مجرموں کے خلاف کل55 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 16 کو عدالت میں چارج شیٹ کیا گیا۔سینئرپولیس افسر وجئے کمار نے جانکاری فراہم کی کہ جموں وکشمیرپولیس تکنیکی نگرانی اور Humint کے ذریعے ممکنہ دہشت گردوں کی مسلسل شناخت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، موثر والدین اس عمل میں پولیس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔انہوںنے بتایاکہ اب تک دو درجن سے زیادہ لڑکوں کو واپس لایا جا چکا ہے اوراب وہ خاندانوں کے ساتھ خوشی سے رہ رہے ہیں۔ایک اور ٹویٹ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجئے کمار نے کہاکہ ہم منشیات کی لعنت پر موثر کارروائیوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ سال2022میں کل946 مقدمات درج ہوئے اور 1560 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ132 منشیات فروشوں کے خلاف PIT ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 11.8 کلو گرام براؤن شوگر، 46 کلو ہیروئن اور 200 کلو چرس سمیت بھاری مقدار میں ممنوعہ اشیاء ضبط کی گئی۔ایک ٹویٹ میں اے ڈی جی پی کشمیرنے کہاکہ دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ شناخت کا عمل، ایف آئی آر درج کرکے ہر خطرے کا نوٹس لیتے ہوئے، گرفتاریاں، اور پی ایس اے کے تحت ان کی بکنگ بھی جاری ہے۔ اس سال کے دوران دہشت گردی سے متعلق49 مقدمات میں جائیدادیں ضبط کی گئیں۔انہوںنے کہاکہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے محاذ پر بڑا فائدہ ہوا۔ فعال دہشت گردوں کی کل تعداد دوہرے ہندسے تک پہنچ گئی۔ حزب المجاہدین کے چیف فاروق نالی اور لشکر طیبہ کے کمانڈر ریاض سیٹھری کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں کے تمام سربراہان اور اعلیٰ کمانڈروں کو ہلاک کر دیا گیا اوران دونوں کو جلد ہی بے اثر کر دیا جائے گا۔اپنے ایک اور ٹویٹ میںایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجئے کمار نے امن وامان کی صورتحال کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ 2022میںکوئی ہرتال نہیں ہوئی اورنہ سڑکوں پر تشدد ہوا، خاص طور پر انکاؤنٹر کے مقامات پر پتھراؤ کا کوئی واقعہ نہیں، انٹرنیٹ سروس بند نہیں رہی، مارے گئے دہشت گردوں کا جنازہ نہیں ہوا، دہشت گردوں کی رونق بھی نہیں رہی، سماج کے تمام طبقات کو فائدہ ہوا۔ اے ڈی جی پی کشمیرنے کہاکہ امن وقانون محاذ پر، ہم نے امن اور استحکام میں 100فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوںنے موازنہ کرتے ہوئے کہاکہ سال2016 میں امن وقانون کے 2897واقعات رونما ہوئے تھے جبکہ سال2022کیں 26معمولی واقعات پیش آئے۔ایک اور ٹویٹ میں سینئرپولیس افسر کاکہناتھاکہ پچھلے 3 سالوں سے زیادہ عرصے میں امن وقانون کے مسائل سے نمٹنے کے دوران فائرنگ میں کسی شہری کی جان نہیں گئی۔ایک اورٹویٹ میں اے ڈی جی پی کشمیرنے کہاکہ معاشرے میں دو نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ گھر کے مالکان نے دہشت گردوں کو پناہ دینے سے انکار کرنا شروع کر دیا اور اگر ان کے بچے دہشت گردی میں شامل ہو جائیں تو والدین کو فخر نہیں ہوتا بلکہ وہ ان سے واپس لوٹنے کی اپیل کرتے ہیںاور اپنے بچوںکی واپسی کیلئے جموں وکشمیرپولیس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سال2022 کے دوران،جموں وکشمیرپولیس کے14 اہلکاروں سمیت سیکورٹی فورسز کے کل 26 اہلکار دہشت گردانہ حملوں اور مقابلوں کے دوران جاں بحق ہوئے،اور ان دہشت گردی کے جرائم میں ملوث زیادہ تر دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ایک اور ٹویٹ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجئے کمار نے ایک اورٹویٹ میں جانکاری دی کہ سال2022 کے دوران، دہشت گردوں کے ہاتھوں کل29 شہری مارے گئے جن میں 21 مقامی (6 ہندو بشمول3 کشمیری پنڈت اور 15 مسلمان) اور 8 دیگر ریاستوں سے تھے۔ ان دہشت گردی کے جرائم میں ملوث تمام دہشت گردوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا ہے، ما سوائے باسط ڈار اور عادل وانی کے جنہیں جلد ہی ہلاک کر دیا جائے گا۔انہوںنے بتایاکہ اس سال مقابلوں اور ماڈیولز کی توڑ پھوڑ کے دوران 360 ہتھیار برآمد کیے گئے جن میں121، اے کے سیریز کی رائفلیں، 8 ایم4 کاربائن اور 231 پستول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ای ڈیز، اسٹیکی بموں اور گرینیڈز کو بروقت ضبط کرنے سے دہشت گردی کے بڑے واقعات ٹل گئے۔اے ڈی جی پی کشمیر وجئے کمار نے کہاکہ نئے بھرتی ہونے والے مقامی دہشت گردوں کی زندگی کا دورانیہ بہت کم ہو گیا۔ اس سال مارے گئے کل 65 نئے بھرتی کیے گئے دہشت گردوں میں سے 58 (89فیصد) کو شمولیت کے پہلے مہینے کے اندر ہی ہلاک کر دیا گیا۔انہوںنے کہاکہ سال2022میں دہشت گردوں کی صفوں میں 100 نئی بھرتیوں کی اطلاع ملی ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں37 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔اے ڈی جی پی کشمیر نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 74 لشکر طیبہ میں شامل ہوئے۔ کل بھرتیوں میں سے65 دہشت گرد انکاؤنٹر میں مارے گئے،17کو گرفتارکیاگیا اور 18 دہشت گرد اب بھی سرگرم ہیں۔انہوںنے کہاکہ سال2022 کے دوران کشمیر میں کل 93 کامیاب انکائونٹریا مقابلے ہوئے جن میں 42 غیر ملکی دہشت گردوں سمیت172 دہشت گرد مارے گئے۔ ایک اور ٹویٹ میںاے ڈی جی پی کشمیر وجئے کمار نے کہاکہ لشکر طیبہ اورٹی آر ایف تنظیم سے وابستہ سب سے زیادہ108 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد جیش محمد کے35،حزب المجاہدین کے22، البدرکے4 اور اے جی یو ایچ سے وابستہ3دہشت گردی بھی مارے گئے ۔