The education system has been paralyzed for 2 years, causing irreparable damage to the education and training of millions of students

2برسوں سے نظام تعلیم مفلوج،لاکھوں طلبہ کی تعلیم وتربیت کوناقابل تلافی نقصان

سری نگر//5،اگست2019سے تاحال جموں وکشمیرمیں نظام تعلیم مفلوج پڑا ہواہے ،کیونکہ گزشتہ2برسوں کے دوران زیادہ سے زیادہ20دنوں کیلئے تعلیمی ادارے کھل ہیں ۔ملک بھرکے محض24فیصد طلاب کوآن لائن ایجوکیشن کیلئے درکار سہولیات بہم ہونے کی طرح ہی جموں وکشمیرمیں بھی لاتعداد طلباء وطالبات کہیں انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے اورکہیں جدیدموبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن ایجوکیشن سے استفادہ حاصل نہیں کرپارہے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک ذیلی تنظیم یونیسف نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں کل 28کروڑ 60لاکھ سے زیادہ طالب علموں میںسے صرف24فیصد کوآن لائن ایجوکیشن حاصل کرنے کیلئے درکار سہولیات دستیاب ہیں ۔یونیسف کی مانیں توبھارت جیسے بڑے ملک جہاں کل آبادی میں نوجوانوں اوربچوں کی شرح 65فیصد سے زیادہ ہے ،میں کوروناوائرس پھیلنے کے بعدنظام تعلیم کوناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ،کیونکہ 76فیصد کے لگ بھگ زیرتعلیم چھوٹے ،نوعمراورنوجوان طلبہ کہیں انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے اورکہیں جدیدموبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے آن لائن ایجوکیشن سے استفادہ حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔مرکزی زیرانتظام علاقہ جموں وکشمیرمیں صورتحال اسے مختلف نہیں ۔جانکار لوگوں کامانناہے کہ یہاں بیشتر طلاب کوانٹرنیٹ سہولیات دستیاب نہ ہونے اورجدید موبائل فو ن بہم نہ ہونے کے باعث آن لائن ایجوکیشن تک کوئی رسائی حاصل نہیں رہی ہے ۔خاص کر سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلباء وطالبات جن کاتعلق غریب گھرانوںسے ہوتا ہے،میںسے نوے فیصد کوآن لائن ایجوکیشن سے کوئی فائدہ نہیں ملا،کیونکہ ایسے بچوں کے پاس گھروں میں جدیدموبائل دستیاب نہیں ،اورنہ ایسے بچوں وبچیوں کی انٹرنیٹ سروس تک کوئی رسائی ہے ۔جہاں تک پرائیویٹ یانجی اسکولوں میں زیرتعلیم متوسط اورامیر گھرانوںوکنبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور طالبات کاتعلق ہے تو اُنھیں اگست 2019سے2020کے وسط تک انٹرنیٹ سروس ٹھیک سے دستیاب نہیں رہی ۔یہ سروس چونکہ ٹو جی تک محدودتک رکھی گئی تھی ،اسلئے جدیدموبائل فون ہونے کے باوجود طلبہ آن لائن ایجوکیشن حاصل کرنے میں مشکلات سے دوچاررہے ۔اسکول وکالج مسلسل2برسوں سے بندرہنے کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لاکھوں زیرتعلیم نونہالوں اورنوجوانوں کی تعلیم وتربیت اورحصول علم کی جدوجہد کوناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ،جس وجہ سے والدین اپنے بچوں بچیوں کے تعلیمی مستقبل کولیکر سخت پریشان ہیں ۔نجی اسکولوںمیں زیرتعلیم طلبہ کے والدین کہتے ہیں کہ اسکول بندرہنے کے باجود اُنھیں ماہانہ ٹیوشن فیس اداکرنی پڑتی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ آن لائن ایجوکیشن محض ایک رسم خانہ پوری ہے تاکہ نجی اسکول والے ہم سے بچوں کاٹیوشن فیس وصول کرسکیں ۔کئی والدین نے شکایت کی کہ آن لائن ایجوکیشن کیلئے کوئی نصاب ،کوئی طریقہ کار اورکوئی نظام الاوقات ہی نہیں ہے ۔انہوںنے بتایاکہ پرائیویٹ اسکولوں میں تعینات اساتذہ اوراُستانیاں اپنی مرضی کے مالک ہیں ،اُن کوجب مرضی ہو ،اُسی وقت وہ آن لائن کلاس لیتے ہیں ۔کبھی صبح ،کبھی دوپہراورکبھی سہ پہرکے وقت آن لائن کلاس کاوقت دیاجاتا ہے ۔یوں بچے اورنوعمرلڑکے پورے دن بلاوجہ موبائل فون اپنے پاس رکھتے ہیں ،اوراس کاغلط استعمال بھی کرتے ہیں ۔ایک تعلیم یافتہ شخص نے بتایاکہ اُس کابیٹا اوربیٹی ایک نجی اسکول میں زیرتعلیم ہے ،اوروہ ہرمہینے اسکول جاکر ماہانہ ٹیوشن فیس اداکرتا ہے ،انہوں نے بتایاکہ دن بھرموبائل فون اپنے پاس رکھ کربچے خراب ہورہے ہیں ،کیونکہ جب آن لائن کلاس نہ ہوتووہ ہوم ورک کے بہانے موبائل فون کاغلط استعمال کرتے ہیں ،جس وجہ سے اُن کے اذہان اورصحت بالخصوص آنکھوں پت منفی ومضراثرات مرتب ہوئے ہیں ۔