rajnath singh

ہماری فوج نے دنیا میں اپنی مضبوطی کالوہا منوایاہے ۔ راجناتھ سنگھ

سرینگر//وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ خود انحصاری کے وژن سے بھارت کی دفاعی صورتحال بھی بہتر ہورہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج دنیابھارت کی دفاعی پوزیشن کو تسلیم کررہی ہے اور بھارتی فوج نے عالمی سطح پر اپنالوہا منوایا ہے ۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت قدیم زمانے سے دفاعی آلات بنانے کا منبہ رہا ہے اوریہ ہمارے پوروجوں کی جاگیر ہے جس کو ہم سنبھالنے کاکام کررہے ہیں۔ وزیر دفاع نے شری نارائن گروجی کے سلسلے میںمنعقدہ تقریب کے دوران کہاکہ آج دنیا ہماری عسکری طاقت کوتسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود انحصاری، جو ہندوستان کی ثقافت کا ایک حصہ رہی ہے، شری نارائن گروجی نے اسے اپنی تعلیمات کے ذریعے عوام تک پہنچایا، اور آج شیواگیری مٹھ بھی اسے آگے لے جانے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ سی این آئی کے مطابق شیوا گیری مٹھ کے دورہ کے دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کی دفاعی قوت کو دنیا تسلیم کررہی ہے اورعالمی سطح پر بھارتی فوج نے اپنا لوہا منوایاہے ۔ وزیر دفاع نے شرینارائن گروجی کے مٹھ میںمنعقدہ تقریب پر بولتے ہوئے کہاہے کہ مہاتما گاندھی اور سوامی وویکانند نے بھی جدوجہد آزادی کے دوران شیواگیری مٹھ کا دورہ کیا، ‘گرودیون’ کی رہنمائی حاصل کی، اور زندگی میں اپنے مقاصد کی طرف مزید توانائی کے ساتھ آگے بڑھے۔ انہوں نے کہاکہ میں ہوں یا وزیر اعظم نریندر مودی، ہم سب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ رہے ہیں، جہاں ہر صبح شاکھوں میں شری نارائن گرو کی دعا میں یاد کیا جاتا ہے۔ ہمارے لیے سری نارائن گرو نہ صرف قابل احترام ہیں بلکہ صبح کی یادگار بھی ہیں۔ انہوںنے کہاکہسری گرو جی نے ‘اورو جاتی، اورو ماتم، اورو دیوم، مانوشیانو’، یعنی “انسانوں کے لیے ایک ذات، ایک مذہب اور ایک خدا” کا پیغام دے کر ‘یت پندے تت برہمنڈے’ کی روح کو عوام تک پہنچایا۔ انہوںنے مزید کہاکہ ستیوگ میں علم کی طاقت اہم تھی، پھر تریتا میں منتر کی طاقت۔ دواپر میں جنگی طاقت اہم تھی، پھر کلی یوگ میں سنگھا کی طاقت، یعنی تنظیم بہت اہم ہے۔ ہمیں گروجی کی اس نصیحت کو اپنانا ہوگا، ہم ایک بار پھر عالمی سطح پر وشوا گرو کے روپ میں نظر آئیں گے یہ سری نارائن گرو کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے سیواگیری مٹھ کو تعلیم، صفائی وغیرہ جیسے موضوعات پر عام لوگوں میں جدید شعور پھیلانے کا حکم دیا۔ اور گروجی کی مہربانی اور قابل احترام سنتوں کے آشیرواد سے، ہماری حکومت نے بھی اپنی خصوصی توجہ ان موضوعات پر مرکوز کی ہے نتیجہ کے طور پر، ہمیں یہ دیکھنے کو ملا کہ گرو جی کی صحبت میں بہت سے ایسے لوگ عقیدت میں شامل ہوئے، جو پہلے مختلف سماجی وجوہات کی وجہ سے بھگوان کی عبادت کرنے سے محروم تھے۔