ٹرمپ نے یورپ کو دیا بڑا جھٹکا، جرمنی سے 5ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا حکم

ٹرمپ نے یورپ کو دیا بڑا جھٹکا، جرمنی سے 5ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا حکم

ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس دوران اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جرمنی سے 5000 امریکی فوجیوں کے انخلا کا حکم دے دیا ہے۔ اگلے 6 سے 12 ماہ کے اندر ان فوجیوں کو واپس امریکہ لایا جائے گا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس قدم کو منظوری دے دی ہے۔ پنٹاگن کا کہنا ہے کہ انخلا اگلے 6 سے 12 ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان تلخ بحث کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقے اور امن مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ نیٹو کے اندر بھی اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ دراصل پنٹاگن نے جمعہ کو اعلان کیا کہ امریکہ اگلے 6 سے 12 ماہ کے دوران جرمنی سے تقریباً 5000 فوجیوں کو واپس بلا لے گا۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کو پورا کرے گا، جو انہوں نے ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے حوالے سے جرمن رہنما کے ساتھ جاری ٹکراؤ کے درمیان دی تھی۔
رواں ہفتے کی شروعات میں ٹرمپ نے نیٹو کے اتحادی جرمنی سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کی دھمکی دی تھی، جب چانسلر فریڈرک مرز نے کہا تھا کہ ایرانی قیادت امریکہ کی تذلیل کر رہی ہے اور انہوں نے جنگ میں واشنگٹن کی حکمت عملی کے فقدان پر تنقید کی تھی۔ پنٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ محکمہ کی جانب سے یورپ میں عسکری صورتحال کا مکمل جائزہ لینے اور زمینی ضروری حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ جرمنی میں امریکہ کی کئی بڑی فوجی تنصیبات ہیں جن میں یو ایس یورپی کمانڈ اور یو ایس افریقہ کمانڈ کا ہیڈکوارٹر، رامسٹین ایئر فورس بیس اور لینڈسٹول ریجنل میڈیکل سینٹر شامل ہیں جو امریکہ سے باہر سب سے بڑا امریکی اسپتال ہے۔
جرمنی چھوڑنے والے فوجیوں کی تعداد وہاں تعینات 36ہزار امریکی فوجی اہلکاروں کا 14فیصد ہو گی۔ سینٹر فار یورپی پالیسی اینالیسس کے نیکو لینگ نے اس ہفتے کے اوائل میں دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ فوجی بنیادی طور پر جرمی کی حفاظت میں مدد کرنے کے بجائے عالمی سطح پر امریکی طاقت کا مظاہرہ سمیت امریکی مفادات کی تکمیل کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے جمعہ کو فلوریڈا کے اوکالا میں ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے فوجیوں کے انخلا کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کو نظر انداز کردیا۔ وہ اپنے اقتصادی منصوبوں کی تشہیر کے لیے ایک ریلی کے بعد وہاں پہنچے تھے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت کے دوران ایسی ہی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جرمنی میں تعینات تقریباً 34,500 امریکی فوجیوں میں سے تقریباً 9,500 کو واپس بلا لیں گے لیکن انہوں نے کارروائی شروع نہیں کی اور ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن نے 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد منصوبہ بند انخلاء کو باقاعدہ طور پر روک دیا۔ (قومی آواز)