سرینگر میں بچوں میں ہیپاٹائٹس کے مشتبہ پھیلاؤ کی اطلاع

سرینگر میں بچوں میں ہیپاٹائٹس کے مشتبہ پھیلاؤ کی اطلاع

ریشی پورہ علاقے میں 18 کیس سامنے آئے، آلودہ پانی وجہ قرار

سرینگر// یو این ایس// سرینگر کے زڈی بل زون کے کھمبر علاقے کے ریشی پورہ محلہ میں بچوں کے درمیان حاد وائرل ہیپاٹائٹس (یرقان) کے مشتبہ پھیلاؤ کی اطلاع ملنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری طور پر نگرانی اور کنٹرول اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ڈسٹرکٹ سرویلنس یونٹ سرینگر کے ایک عہدیدار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 18 کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں زیادہ تر اسکولی بچے شامل ہیں۔ متاثرہ بچوں کی عمر 7 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی ہے، جن میں 12 لڑکیاں اور 6 لڑکے شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کیسز ایک مخصوص علاقے اور عمر کے گروہ تک محدود ہیں۔حکام کے مطابق یہ کیسز 30 اپریل کو ایک ساتھ سامنے آئے، جس کے بعد طبی ٹیموں نے فوری طور پر فیلڈ تحقیقات شروع کیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں یرقان، بھوک کی کمی، کمزوری، بخار اور قے جیسی علامات پائی گئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پھیلاؤ ممکنہ طور پر آلودہ چشمہ پانی کے استعمال کے باعث ہوا ہے، کیونکہ مقامی آبادی بڑی حد تک اسی پانی پر انحصار کرتی ہے۔ ابتدائی تجزیہ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماری ہو سکتی ہے، جو عام طور پر ہیپاٹائٹس اے اور ای میں فیکل،اورل راستے سے منتقل ہوتی ہے۔اصل وجہ کی تصدیق کے لیے نل اور چشمہ دونوں ذرائع سے پانی کے نمونے حاصل کر کے ایم پی این ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں، جبکہ پانچ مریضوں کے خون کے نمونے بھی سیرولوجیکل جانچ کے لیے ضلع پبلک ہیلتھ لیبارٹری جے ایل این ایم اسپتال روانہ کیے گئے ہیں۔ نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ادھر ممکنہ آلودگی کے پیش نظر متعلقہ چشمہ پانی کے ذریعہ کو مقامی مسجد کمیٹی کے تعاون سے سیل کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے استعمال کو روکا جا سکے۔ جل شکتی محکمہ کو بھی پانی کے معیار کا تفصیلی جائزہ لینے اور اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ صحت کی ٹیموں نے علاقے میں فعال نگرانی (ایکٹیو سرویلنس) شروع کر دی ہے تاکہ نئے کیسز کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق فی الحال نئے کیسز میں کوئی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا اور صورتحال قابو میں ہے۔عوامی آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے، جس میں لوگوں کو پانی ابال کر پینے، ہاتھوں کی صفائی اور صفائی ستھرائی کے اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فی الحال صرف محفوظ اور صاف شدہ پانی کا استعمال کریں۔حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ محفوظ متبادل پانی کی فراہمی، باقاعدہ کلورینیشن اور مسلسل نگرانی اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے نہایت ضروری ہے، جبکہ لیبارٹری نتائج آنے کے بعد مزید حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔