کشمیر میں 5 برفانی جھیلیں انتہائی خطرناک قرار، اچانک سیلاب کا خدشہ

کشمیر میں 5 برفانی جھیلیں انتہائی خطرناک قرار، اچانک سیلاب کا خدشہ

اچانک پھٹنے والے سیلاب سے ممکنہ ہزاروں افراد اور بنیادی ڈھانچے کو خطرہ

سرینگر// یو این ایس// وادی کے ہمالیائی خطے میں برفانی جھیلوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر ایک نئی سائنسی تحقیق نے تشویش کی گھنٹی بجا دی ہے، جس میں پانچ جھیلوں کو اچانک پھٹنے والے سیلاب (گلیشیائی لیک آؤٹ برسٹ فلڈز ) کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔یہ تحقیق، جو معروف سائنسی جریدے جرنل آف جیالوجی میں شائع ہونے کے لیے منظور ہو چکی ہے،کشمیر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انجام دی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر عرفان رشید نے کی جبکہ سید دانش رفیق کاشانی اس کے مرکزی مصنف ہیں۔تحقیق کے مطابق برمسر جھیل،چیر سر جھیل،نند کوہل جھیل،گنگ بل جھیل اور باغ سر جھیل کو ‘‘انتہائی زیادہ خطرے’’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان جھیلوں میں کسی بھی وقت شگاف پڑنے کی صورت میں بڑی مقدار میں پانی اور ملبہ نیچے کی جانب بہہ سکتا ہے، جس سے شدید فلیش فلڈز کا خدشہ ہے۔تحقیق میں 1992 سے 2024 تک کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور فیلڈ اسٹڈیز کی مدد سے 2500 میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع 155 برفانی جھیلوں کا جائزہ لیا گیا، جن کا مجموعی رقبہ تقریباً 1690 ہیکٹر بنتا ہے۔ اگرچہ مجموعی رقبے میں اضافہ محدود رہا، تاہم وہ جھیلیں جو براہ راست گلیشیئر سے جڑی ہیں، تیزی سے پھیل رہی ہیں، جو انہیں زیادہ غیر مستحکم بناتی ہیں۔ماہرین کے مطابق برامسر اور چِرسر جیسی جھیلوں کا حجم 1990 کی دہائی سے اب تک 25 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہ جھیلیں عموماً ڈھیلے مٹیریل (مورین) سے بنی قدرتی بندشوں پر قائم ہوتی ہیں، جو لینڈ سلائیڈ، برفانی تودے، زلزلے یا شدید بارش کے باعث اچانک ٹوٹ سکتی ہیں۔تحقیق میں خطرے کے تجزیے کے لیے ‘‘اینالیٹیکل ہائیرارکی پروسیس’’ جیسے عالمی معیار کے طریقہ کار کو استعمال کیا گیا، جس میں جھیل کے پھیلاؤ، بند کی نوعیت، اردگرد کی ڈھلوان، اوپری پانی کے روابط، پرما فراسٹ اور زلزلہ خیزی جیسے عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔مزید ، تحقیق میں ممکنہ نقصانات کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے۔ ماڈلنگ کے مطابق اگر ان جھیلوں میں سے کسی ایک میں بھی شگاف پڑتا ہے تو 3000 سے زائد عمارتیں، متعدد پل، سڑکیں اور کم از کم ایک پن بجلی منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر نندکول،گنگ بل جھیل نظام کے متاثر ہونے کی صورت میں گاندربل ضلع کے گنجان آباد علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔تحقیق میں ایک اور تشویشناک پہلو ‘‘چین ری ایکشن کا امکان بھی بتایا گیا ہے، جہاں ایک جھیل کے پھٹنے سے دوسری جھیلیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے تباہی کی شدت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ ہمالیہ کے دیگر علاقوں، خصوصاً 2023 میں سکم میں پیش آنے والے واقعات اس کی مثال ہیں۔اگرچہ اب تک کشمیر میں کسی بڑے گلوف واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا درجہ حرارت اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا مستقبل میں خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ مغربی ہمالیہ میں کشمیر کے گلیشیئرز کو تیزی سے سکڑنے والے گلیشیئرز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ان جھیلوں کی مسلسل نگرانی، ابتدائی وارننگ سسٹم کی تنصیب، اور آفات سے نمٹنے کی منصوبہ بندی میں ان خطرات کو شامل کریں تاکہ ممکنہ انسانی اور معاشی نقصان کو کم کیا جا سکے۔یہ تحقیق پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔