راجوری//مقامی لوگوں نے پیر کو راجوری ضلع کے ڈھنگری گائوں میں اتوار کو ہوئے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں 3 مکانات پر بندوق برداروں کی اندھا دھند فائرنگ سے4 دیہاتی ہلاک اور کم از کم6 افراد زخمی ہو گئے۔ جے کے این ایس کے مطابق پیرکی صبح راجوری کے پہاڑی گاؤں ڈھنگری کے مین چوک پر مقامی لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے پولیس اور ضلع انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے مطالبات سنیں۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کے طور پر راجوری بند کی کال بھی دی ہے۔ناراض مظاہرین نے ’’ایل جی منوج سنہا ہوش میں آو‘‘ کے نعرے لگائے۔انہوںنے کہاکہ ضلعی انتظامیہ راجوری ناکام ہو چکی ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ایل جی منوج سنہا آئیں اور ہمارے مطالبات سنیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ اتوارکو شام7 بجے کے قریب پیش آیا اور پولیس ساڑھے8 بجے کے قریب موقع پر پہنچی۔مظاہرین کاکہناتھاکہ اگر مقامی لوگوں نے پہل نہ کی ہوتی تو یہ تمام 10 لوگ مارے جا چکے ہوتے۔انہوں نے کہاکہ حکام تب ہسپتال پہنچے جب انہوں نے دیکھا کہ شہری متحرک ہیں۔ متاثرہ گاؤں ڈھنگری کے سرپنچ نے کہا کہ پولیس نے بغیر کسی سیکورٹی کے صبح 2بجے لاشیں چھوڑ دیں ۔انہوںنے مطالبہ کیاکہ پولیس اور سول انتظامیہ میں ردوبدل کیا جانا چاہئے،اورساتھ ہی مزید فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔مظاہرے میں شامل لوگوںنے کہا کہ مبینہ دہشت گردوں نے ہلاک ہونے والے افراد سے گولی چلانے سے پہلے پوچھا کہ ’یہاں ہندوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ گولی چلانے سے پہلے بندوق برداروںنے آدھار کارڈ چیک کئے۔ انہوںنے الزام لگایاکہ یہ ہندوؤں کو علاقہ خالی کرنے کے لئے نشانہ بنا رہے ہیں،اسلئے ہم مرکز اور ایل جی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ وی ڈی سی (گاؤں کی دفاعی کمیٹیوں) کو مزید مضبوط کریں اور یہاں کے لوگوں کو وی ڈی سی بندوقیں فراہم کریں، تاکہ لوگ اپنی حفاظت کر سکیں کیونکہ جب تک فورسز یہاں پہنچ جاتی ہیں، تب تک پورا علاقہ ختم ہو چکا ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کارروائی نہیں کی جاتی وہ احتجاج کا راستہ خالی نہیں کریں گے۔










