sagar

گُڈ گورننس کے بلند بانگ دعوے ذرائع ابلاغ تک ہی محدود زمینی صورتحال انتہائی غیر: ساگر

سری نگر// جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ عوامی مسائل میں کمی ہونے کے بجائے دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے، لوگوں کو ہرطرح کے مشکلات کا سامنا ہے اور کوئی بھی شعبہ عوام کی راحت رسانی میں سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے۔ لوگ اس وقت زبردست مسائل ومشکلات سے دوچار ہیں، بجلی کی بدترین سپلائی پوزیشن اور پانی کی قلت کی لوگ پریشان حال ہیں، راشن کی قلت اور حد سے زیادہ مہنگائی نے بھی لوگوں کا حال بے حال کردیا ہے ،سڑکوں کی حالات انتہائی ناگفتہ بہہ ہے جبکہ مسلسل غیر یقینیت سے بے روزگاری کا گراف ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ان باتوں کا اظہار پارٹی جنرل سکریٹری نے مختلف علاقوں ہوئے عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکمران گُڈ گورننس کے بلند بانگ دعوے تو بہت زیادہ کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر لوگ اس وقت گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں۔ جو سہولیات لوگوں کو ماضی میں آسانی سے میسر رہتی تھیں گذشتہ چند برسوں ان سہولیات کی فراہمی بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف راشن کی قلت سے لوگ پریشان ہیں بلکہ سرکاری محکموں کی غلطیوں کا خمیازہ بھی عوام کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ3چار سال سے بجلی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور امسال بجلی کٹوتی کے تمام ریکارڈ مات کئے گئے ہیں کیونکہ گذشتہ 6برسوں سے بجلی کی سپلائی پوزیشن بڑھانے کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ ایسے ہی پانی کی قلت کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی بھی واٹر سپلائی سکیم متعارف نہیں کی گئی جبکہ سڑکوں کی تعمیر و تجدید میں بھی کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا ۔ اگر کہیں میکڈم بچھایا بھی گیا تو اس کا معیار اتنا خراب تھا کہ چند دنوں کے بعد ہی سڑکوں پھر سے خستہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی بھر کی سڑکوں کی حالت اس قدر ناگفتہ بہہ ہے کہ لوگوں کا عبور و مرور بھی مشکل ہوگیا ہے۔ سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئی ہیں جبکہ ہر قدم پر کھڑے بند گئے ہیں جن میں بارشوں اور بربرفباری کے وقت پانی جمع ہونے سے لوگوں کا چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوجاتا ہے۔ ساگر نے کہاکہ حکمران باہری دنیا کودکھانے کیلئے کشمیر میں لیپاپوتی پر مبنی اقدامات کررہے ہیں جبکہ زمینی صورتحال انتہائی غیرہے اور لوگوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ ایک طرف باہر سے سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے لیکن دوسری جانب یہاں کی اپنی صنعتوں کو زمین بوس کیاجارہاہے۔ چھوٹے کارخانہ دار پہلے ہی جی ایس ٹی اور مسلسل لاک ڈائون کی وجہ سے اپنا کام کاج بند کرنے کیلئے مجبور ہوگئے اور اب بیرونی ملکوں سے غیر قانونی طور پر سیبوں کی برآمد کرکے کشمیر کے میوہ باغات مالکان کی روزی روٹی پر شب خون مارا جارہاہے۔