جاوید ڈار نے ’ مویشیوںکو لگنے والی جِلد کی بیماری‘پر قابو پانے کیلئے تیز رفتار ویکسی نیشن اور سخت نگرانی کی ہدایت دِی

جاوید ڈار نے ’ مویشیوںکو لگنے والی جِلد کی بیماری‘پر قابو پانے کیلئے تیز رفتار ویکسی نیشن اور سخت نگرانی کی ہدایت دِی

سری نگر//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی اور پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں ’مویشیوں کو لگنے والی جِلد کی بیماری(ایل ایس ڈِی) کی موجودہ صورتحال اور جموںوکشمیر بھر میں اِس پر مؤثر قابو پانے کے لئے کئے جانے والے اَقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ دورانِ میٹنگ وزیر موصوف کو بیماری کی ضلع وار صورتحال، ویکسی نیشن کی کوریج، اَدویات اور ویکسین کی دستیابی، نمونے جمع کرنے اورٹیسٹنگ کے علاوہ محکمہ مویشی پالن کی طرف سے اُٹھائے گئے دیگرروکتھام کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ کشمیر میں 9 فعال مراکز رِپورٹ ہوئے ہیںجن میں 59 مویشی متاثر ہوئے ہیںاورجن میں 55 ایکٹیو کیسزبھی شامل ہیںجبکہ اَب تک کسی کی موت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔گاندربل سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں سات مراکز میں 52 کیسز سامنے آئے ہیں۔ اِس کے بعد بانڈی پورہ میں تین کیسز اور سری نگر میں باقی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیر جاوید ڈار نے تفصیلی ضلع وار فیڈ بیک لیتے ہوئے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مقررہ علاج کے پروٹوکول پر سختی سے عمل کریں اور ویکسی نیشن مہم کو تیز کریں۔ اُنہوں نے بالخصوص زیادہ کیسز والے علاقوں میں نگرانی میں اِضافے اور بروقت مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے فیلڈ لیول کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنانے، ویٹرنری ماہرین و عملے کی مناسب تعیناتی اور متاثرہ علاقوں کے باقاعدہ دوروں پر زور دیا۔ اُنہوں نے محکمہ کو یہ بھی ہدایت دی کہ کسانوں کو احتیاطی تدابیر، بروقت رِپورٹنگ اور متاثرہ مویشیوں کی مناسب نگہداشت کے بارے میں بیداری اور آگاہی فراہم کی جائے۔
وزیر موصوف نے مزید ہدایت دی کہ اَفسران تمام متاثرہ علاقوں میں ضروری اَدویات اور ویکسین کی مناسب دستیابی یقینی بنائیں اور بروقت و مؤثر ردِّعمل کے لئے صورتحال کی قریبی نگرانی جاری رکھیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ بیماری پر قابو پانے اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں ، سائنسی علاج، بروقت ویکسی نیشن اور کسانوں میں زیادہ سے زیادہ آگاہی ضروری ہے۔میٹنگ میں اینمل ہسبنڈری کشمیر کے سربراہان، چیف ا ینمل ہسبنڈری اَفسران اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔