چیف سیکرٹری نے ‘ ڈرافٹ جے اینڈ اِی وِی پالیسی2026‘کے فریم ورک کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے ‘ ڈرافٹ جے اینڈ اِی وِی پالیسی2026‘کے فریم ورک کا جائزہ لیا

الیکٹر ک وہیکل کے قابل اعتماد منتقلی کیلئے مضبوط اِنفراسٹرکچر ، ہدفی مراعات اورہنرمند اَفرادی قوت پر زور دِیا

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میںالیکٹرک موبلٹی کے لئے اعتمادپہلے اور مالی طور پر محتاط رویہ اَپنانے پر زور دِیاجبکہ الیکٹرک گاڑیوں (اِی وِی) کے اِستعمال کو بڑھانے کے لئے مناسب سروس کی تیاری، موسم سرما میں کارکردگی اور قابل اعتماد چارجنگ اِنفراسٹرکچر قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔چیف سیکرٹری نے سینٹر فار انویشن اینڈ ٹرانسفارمیشن اِن گورننس( سی آئی ٹی اے جی)کی مدد سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے وضع کردہ جموںوکشمیر الیکٹرک وہیکل ( اِی وِی) پالیسی 2026 کے جامع فریم ورک کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کر رہے تھے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس ،کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے، کمشنر سیکرٹری مکانات و شہرترقی محکمہ، کمشنر سیکرٹری قانون، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر جے ایم سی اورایس ایم سی کے علاوہ دیگر متعلقہ اَفسران اور سی آئی ٹی اے جی کے ماہرین نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے بات کرتے ہوئے ہدایت دی کہ مجوزہ پالیسی کی عمل آوری میں سختی سے ترتیب وار طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے ،چارجنگ کوریڈورز کی توسیع اور وسیع مارکیٹ کو اَپنانے سے پہلے سروس کی تیاری سے کیا جائے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر میں اِی وِی کی تعیناتی یونین ٹیریٹری کے مخصوص خطوں، موسمی حالات اورزیرو سے کم درجہ حرارت والے آپریٹنگ ماحول کے مطابق بالخصوص دُشوار گزار راستوں پر ہونی چاہیے تاکہ بنیادی ڈھانچے اور گاڑیوں کی کارکردگی کو اصل فیلڈ حالات میں جائزہ لینے کے بعد ہی بڑھایا جائے۔چیف سیکرٹری نے مالیاتی فریم ورک کے حوالے سے ہدایت دی کہ حکومت کی حمایت کو سٹریٹجک خلأپورا کرنے اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت سازی پر مرکوز رکھا جائے۔ اُنہوں نے مرکز ی معاونت والے اقدامات بشمول پی ایم اِی۔ڈرائیو پر زیادہ انحصار کرنے پر زور دیا تاکہ یہ تبدیلی کا بنیادی مالی سہارا بن سکے۔اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ محکمہ قانون ڈرافٹ پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل ضروری قانونی جانچ مکمل کرے۔
اَتل ڈولو نے سرکاری گاڑیوں کی الیکٹریفکیشن کے بارے میں ہدایت دی کہ سرکاری گاڑیوں کی تبدیلی مرحلہ وار اور ضرورت کے مطابق کی جائے جس میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے خطے، موسمی حالات اور عملی تقاضوں کو سختی سے مدِنظر رکھا جائے۔اِس موقعہ پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ اَونی لواسا نے بتایا کہ مجوزہ پالیسی آٹھ حکمت عملی کے ستونوں پر مبنی ہے جن میں گاڑیوں کو اَپنانے، چارجنگ اِنفراسٹرکچر، اَفرادی قوت کی ترقی، مالی معاونت، پاور سسٹم انضمام اور ماحولیاتی نتائج کے قابلِ پیمائش اہداف شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہاکہ پالیسی کی عمل آوری کے اگلے چھ برسوں کے اندر ٹھوس پالیسی اہداف کا تصو رکیا گیا ہے جس میںنئی نجی چار پہیہ گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اِی وِی کا حصہ 40 فیصد، دو پہیہ گاڑیوں میں 35 فیصد، بسوں میں 30 فیصد اور ٹیکسیوں و شیئرڈ موبائلٹی میں 25 فیصد شامل ہے۔اس تبدیلی کا سپورٹ کرنے کے لئے مجوزہ روڈ میپ میںپبلک چارجنگ نیٹ ورک کو موجودہ 180 سٹیشنوں سے بڑھا کر تیسرے سال تک 450 اور چھٹے سال تک 900 مقامات تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ اِس میں 140 ترجیحی فاسٹ چارجنگ مراکز شامل ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا ماہانہ کم از کم 98 فیصد اَپ ٹائم برقرار رکھنے کا ہدف ہے۔بیٹری کے تھرمل رویے، کم درجہ حرارت میں چارجنگ کی صلاحیت اور گاڑی کی کارکردگی پر کیبن ہیٹنگ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ایک مخصوص ونٹر ویلیڈیشن پروٹوکول تجویز کیا گیا ہے۔مجوزہ پالیسی ابتدائی خریداروں کو مراعات دینے کا بھی سپورٹ کرتی ہے۔ اِس میں اہل خریداروں کو 3 فیصد سالانہ تک سود کی رعایت یا رولنگ ٹاپ اپ سپورٹ کا اختیار دینے کا تصور کیا گیا ہے، تاہم دونوں مراعات بیک وقت حاصل نہیں کی جا سکیں گی۔ایک سالانہ سکریپج ایکسچینج بونس بھی زیادہ سے زیادہ تین سال کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ مراعات صرف مجاز سکرپیج ذرائع کے توسط سے دستیاب ہوں گی اور فائدہ صرف مجاز سکریپ پیج چینلز کے ذریعے دستیاب ہوگا اور مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے ذریعے تصدیق سے مشروط ہوں گی۔پالیسی میں ٹائم آف ڈے ٹیرف اور سولر آورز چارجنگ کے ذریعے ای وی چارجنگ کی طلب کو پاور سسٹم کے ساتھ منظم طریقے سے مربوط کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے جس کا ہدف مقررہ مدت کے اندر چارجنگ آپریشنز میں 40 فیصد قابل تجدید توانائی کے اِنضمام کے ساتھ ہے۔