علیحدگی پسندوں کے الیکشن لڑنے سے این سی کے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہوں گے/عمرعبد اللہ
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور اُمیدوار برائے عیدگاہ حاجی مبارک گُل نے آج اپنے کاغذات نامزدگی پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں ریٹرنگ آفیسر کے دفتر میں داخل کئے جبکہ پارٹی کے اُمیدوار برائے کنگن میاں مہر علی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ اور سینئر لیڈر و رکن پارلیمان میاں الطاف احمد کی موجودگی میں داخل کئے۔اس دوران جگہ جگہ پر پارٹی کارکنوں اور مقامی لوگوں نے پارٹی لیڈران کا گرمجوشی کیساتھ استقبال کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ پارٹی اُمیدواروں کی کامیابی کیلئے تن دہی سے کام کریں اور دشمنوں کے حربوں کو کسی بھی صورت میں کامیاب نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے حکومت میں آنے کی صورت میں اگلے 5سال کیلئے جموں وکشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود اور راحت کیلئے ایک منظم منشور تیار کیا ہے اور پارٹی سے وابستہ ہرایک فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس منشور کو گھر گھر خصوصاً نوجوانوں کے پاس لے کر جائیں۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہاکہ نئی دلی کشمیری عوام کے مینڈیٹ کو تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے اور آئے روز نت نئے خودساختہ لیڈران میدان میں آرہے ہیں ، عوام کو ان گندم نما جو فروشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ باہر سے کچھ اور ہیں اور اندر سے کچھ اور۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں منڈیٹ کی تقسیم کا خمیازہ آج بھی یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ اُس پارٹی کو حمایت دی جائے جو اس تاریخی ریاست کو موجودہ دلدل سے نکالنے کی اہل ہو۔ ادھر پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے کنگن میں پارٹی عہدیداروںاور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن کے ایام میں متحرک رہیں اور انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لیں ۔ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ علیحدگی پسند رہنماؤں کا مرکزی دھارے میں شامل ہونے اور جموں و کشمیر میں انتخابات لڑنے کا فیصلہ علیحدگی پسند کیمپ میں نظریاتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا ’’اس سے پہلے، وہ (علیحدگی پسند) جب بھی انتخابات ہوتے تھے بائیکاٹ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔ آج وہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک نظریاتی تبدیلی آئی ہیسابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کے الیکشن لڑنے سے نیشنل کانفرنس کے اس موقف کی تائید ہوئی ہے کہ تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔










