Heat intensity and use of cold drinks and ice cream

گرمی کی شدت اور ٹھنڈی مشروبات وآئس کریم کا استعمال

معیار کی کوئی چیکنگ اور نہ معیاد پرکسی کی نظر ،لوگ بشمول بچے بچیاں پیٹ درد اور دیگر بیماریوںمیں مبتلاء

سری نگر//موسم کے تبدیلی ہوتے ہی شہریوں کو موسمی بیماریوں نے قابو کرناشروع کر دیاہے۔ غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء بشمول کولڈڈرنکس ،آئس کریم اور رنگ والا شربت ڈائریا اور پیٹ کی بیماریوں کا سبب بننے لگا۔جے کے این ایس کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی شہریوں نے ٹھنڈی مشروبات کا استعمال شروع کر دیا۔ مشروبات کی دکانوں اور ٹھیلوں پر شہریوں خاص کر نونہالوں اورنوجوانوں کا رَش لگ گیاہے۔اوربیشتر لوگ گرمی سے راحت پانے کیلئے بغیر سوچے سمجھے یامشروبات کے معیار یامعیادکی جانکاری لئے بغیر کولڈڈرنک کی بوتل حلق سے نیچے اُتاردیتے ہیں،اور غیر معیاری مشروبات سے لوگ پیٹ درداور گلے کے مسائل کابھی سامنا کرتے ہیں۔سری نگر شہرہی نہیں کشمیروادی کے قصبہ جات اوردیہات میں بھی لوگ بالخصوص چھوٹے بچے بچیاں اور نوجوان اسکول کالج جاتے اوروہاں سے گرواپس آتے راستے میں مختلف مقامات پر ٹھیلوں اور دکانوں پر جاکرمختلف مشروبات پی جاتے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد ٹھنڈے مشروبات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے گرمی کا توڑ تو لذیذ ٹھنڈے مشروب میں ہے۔طبی ماہرین بھی گرمیوں میں پانی کی کمی دُور کرنے اور طبیعت ہشاش بشاش رکھنے کے لئے مشروبات کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں،لیکن جب کسی شخص خاص کر کوئی بچہ یا بچی کو اسپتال یاڈاکٹری کلینک پرعلاج کیلئے لایاجاتاہے توڈاکٹر یہ کہتے ہوئے دوائیاں تجویز کرتے ہیں کہ کولڈڈرنکس خاص کر آئس کریم اوررنگ والا شربت استعمال نہ کریں۔ساتھ ہی ڈاکٹر یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ بازاروںمیں سرعام بغیر ڈھکے میوہ جات کو کھانے سے پہلے صاف پانی سے صاف کریں ۔بچے توبچے اب بالغ بھی من کے کچے لگتے ہیں ،کیونکہ بغیر یہ جانے کہ کولڈ ڈرنکس ،دوسری کوئی ٹھنڈی مشروب،جوس اور آئس کریم معیاری ہے کہ نہیں ،اور کہیں یہ زائدالمیعاد تونہیں ہوئے ہیں ،حلق سے نیچے اُتار دیتے ہیں ،اور پھرکہتے ہیں ،بڑی راحت ملی ،بڑا مزہ آیا۔لیکن پھر پیت درد اورگلے میں جلن وخراش کی شکایت کرتے ہیں۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مختلف قسم کے آرٹیفیشل کلرز اور فلیورز گلے کو خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بازاروںمیں فروخت ہونے والی مشروبات بشمول کولڈڈرنکس ،جوس اورآئس کریموں کے معیار یاکوالٹی پرکسی کاکنٹرول نظرنہیں آتا،کیونکہ مشروبات کا چیک اینڈ بیلنس سسٹم موجودیانظرنہیںآتاہے تاکہ عوام کو معیاری مشروبات مل سکیں۔قابل ذکر ہے کہ کشمیرکے بازاروںمیں دستیاب مختلف لیبل والے کولڈ ڈرنکس کو کئی سالوں سے ریاستی سطح پرہی تیار کرکے بوتلوںمیں ڈال جاتاہے ،اور پھر بازاروںمیں یہ کولڈڈرنکس فروخت کئے جاتے ہیں ،زیادہ سے زیادہ بکری کویقینی بنانے کیلئے دکانداروں کو خاص رعایت دی جاتی ہے ،جیسے کہ کم ریٹس پر فراہمی وغیرہ ۔طبی ماہرین کاکہناہے کہ موسم تبدیل ہو تے اورگرمی کی لہر جیسے ہی شروع ہوتیہ توے بازار میں مختلف فروٹس کے نام پر جوس کی فروخت تیز ہوتی ہے۔ بازار میں 10 روپے فی جوس کے گلاس کا استعمال بھی عام ہوجاتاہے۔ جس کی وجہ سے شہری پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر ایمرجنسی میں آناشروع ہو تے ہیں۔سنجیدہ فکر عوامی حلقوں کی فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ وہ بازار میں غیرمعیاری مشروبات بشمول کولڈڈرنکس ،جوس،آئس اور غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ شہری ان بیماریوں سے محفوظ رہیں۔