اسکولوں اور دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی ٹریفک جام کی بڑی وجہ

گرمائی دارالخلافہ سرینگر کے مختلف علاقوں میں ایک دفعہ پھر سخت ترین ٹریفک جام سے لوگ پریشان

زیرتعمیرپروجیکٹوں رانگ پارکنگ فٹ پاتھوں پرقبضے سے یابڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤکے باعث جام نہیںرہاہے متعلقہ ادرے وضاحت کرے /عوامی حلقے

سرینگر//گرمائی دارلخلافہ سرینگر میں ایک دفعہ پھرٹریفک جام سے لوگ پریشان ،مریض تاجر ،مزدور، طلبہ ٹریفک جام میں پھنس کررہ گئے اب ٹریفک جام سٹی پروجیکٹ کی تعمیرکی وجہ سے ہورہاہے یا فٹ پاتھوں پرقبضہ جمانے رانگ پارکنگ کے باعث ہورہاہے اس کا جائزہ تو متعلقہ اداروں کو لیناچاہئے اور عوام کو راحت پہنچانے کے لئے اقداما ت اٹھانے چاہئے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق گرمائی دارلخلافہ سرینگر کئے بیشتر علاقوں میںصبح آٹھ بجے سے ہی جب اسکولوںکالجوں یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم طلاب سرکاری ملازمین، مزدور، تاجر، درس وتدریس پیٹ کی آگ کوبجھانے کے لئے اقدما ت اٹھانے چاہئے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق گرمائی دالخلافہ سرینگرکے بیشتر علاقوں میں صبح آٹھ بجے سے ہی سخت ترین ٹریفک جام دیکھنے کوملا جس سے لوگوں کو طرح طرح کے دکتوں کاسامناکرناپرا ۔اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میںزیرتعلیم طلبہ وطالبات یٹ کی آگ کوبجھانے کے لئے گھروںسے نکلنے والے مزدور کاربار کوفروغ دینے کے لئے تاجر اپنی امراض کاعلاج کرانے والے مریض اور دیگرمکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس ٹریفک جام میں پھنس کررہ گئے ا ورانہیں کافی مشکلوں سے گزرناپڑ رہاہے ۔ٹریفک جام سمارٹ سٹی پرہورہے کام کی وجہ سے ہورہی ہے یاہماری سڑکیںاس قد رتنگ ہوگئی ہے کہ مخالف سمت سے گاڑی آتی ہے تو اس سے گزرنے کاموقع نہیں ملتا یاٹریفک دباؤ اس قدر بڑھ گیاہے کہ سڑکیں کم پڑ رہی ہے یہ بھی کہاجاتاہے کہ بینکوں نے دروازے کھول دیئے او رہر ایک کنبہ اپنے گھر میں گاڑی رکھتاہے اور جب گنجائش سے زیادہ گاڑیاں سڑکوںپردوڑتی ہے تولازمی ہے کہ ٹریفک جام ہوگایہ بھی ضروری ہے کہ تاجرسرکاری ملازمین نکلتے ہیں او جب وہ اپنے کام پرپہنچتے ہے تو پارکنگ زونوںکااستعمال نہیںکرتے ہے بلکہ تہذیب یافتہ دور اندیش شہری ہونے کاثبوت فراہم کرکے ان جگہوںپراپنی گاڑیا پارک کردیتے ہے جہاں ٹریفک کادباؤ بہت زیادہ ہوا کرتاہے ۔ایک غیرسرکاری سروے رپورٹ کے مطابق گرمائی دالخلافہ سرینگر میں ہردن دس سے بارہ ہزار کے قریب نجی گاڑیاں غیرپارکنگ کرتی ہے جسے لوگوںکے چلنے پھرنے گاڑیوں کے آنے جانے میںرکاوٹیںپیش آتی ہے یہ بھی کہاجارہاہے کہ فٹ پاتھ عام لوگوں کے لئے نہیں بیروز گاری حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور شہرسرینگر میں دس سے پندرہ ہزار کے قریب چھاپڑی فروش اپنے گھر سے نکل کرروزی روٹی کمانے کے فکر میں اپنی ریلیاں فٹ پاتھوں پرسجادیتے ہے اور جب پیدل چلنے والے لوگ گھروں سے نکلتے ہیں انہیں شاہراہوں کے بیچ بیچ گزرنا پڑتاہے اس سے بھی جام ہوتاہے ۔الغرض ٹریفک جام عام انسان کے لئے انتہائی مشکل ہے ا سکاقیمتی وقت ضائع ہورہاہے وہ وقت پر اپنے کام پرنہیں پہنچ پاتاپہلے طلبہ طلبات درس تدریس سے محروم ہوتے ہے تاجر دوکان پرنہیں پہنچ پاتاہے اور اسطرح عا لوگوںکواس جام سے دکتیں پیش آرہی ہے اور اس ٹریفک جام کووبالجان سمجھتاہے۔ مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کہاکہ یہ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام انسان کوراحت پہنچانے او راگر221وی دو ر میں بھی کسی دارلخلافہ میں رہنے والے لوگوں کو ٹریفک جام میں گھنٹوں درماندہ ہوناپڑے تو اس جدیددور سے بہتروہ پندرہوں صدی ہے جوبیل گاڑیوں کالوگ استعمال کرکے وقت پر کسی کام پرپہنچ جاتے تھے اور انہیں نہ دکتوں کاپریشانیوں کاسامناکرناپڑتاتھا ۔