state land

گرام پنچایتیں خالی سٹیٹ لینڈ پر سبز اثاثے بڑھا کر کافی کمائی کر رہی ہیں

ان اثاثوںسے لوگوں کو مساوی بنیادوں پر چارہ، ایندھن کی لکڑی اور لکڑی کی مفت فراہمی ہوتی ہے

سری نگر//بنیادی سطح کی جمہوریت اورحکمرانی کے جوہر کو حاصل کرنے کیلئے ترقیاتی کاموں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی میں پنچایتی راج اِداروں ( پی آر آئیز ) کی فعال شمولیت ضروری ہے ۔ جموں و کشمیر یو ٹی حکومت نے کامیابی سے تین درجے پنچایتی راج نظام قائم کرنے کے بعد پی آر آئی کو اختیارات ، ذمہ داریاں ، کام اور فنڈز دے کر انہیں بااختیار بنانے کیلئے بہت سے فیصلے کئے ہیں ۔ عام شہریوں کی آسان زندگی پر اثر انداز ہونے والی مختلف ضروری خدمات اب پی آر آئیز کے ذریعے چلائی جا رہی ہیں ۔ گرام پنچایتیں ( جی پی ایس ) اور شہری لوکل باڈیز ( یو ایل بیز ) پوری طرح سے شامل ہو رہی ہیں اور سرکاری محکموں کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر بامعنی کردار ادا کر رہی ہیں ۔ ایسا ہی ایک اہم مینڈیٹ جسے جی پیز آگے بڑھا رہے ہیں وہ جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات اور ماحولیات کے تحت سوشل فارسٹری ونگ کے تعاون سے ان کے متعلقہ گرام پنچائتوں میں خالی گاؤں کی مشترکہ زمینوں /ریاستی زمینوں کو استعمال کرتے ہوئے سبز اثاثوں کے قیام کیلئے شجر کاری کرنا ہے ۔ گاؤں کی پنچائت پلانٹیشن کمیٹیاں ( وی پی پی سیز ) متعلقہ سرپنچوں کی سربراہی میں زمین کی نشاندہی کرتی ہیں اور سوشل فارسٹری کی تکنیکی مدد کے ساتھ کژیر مقصدی درختوں کے انواع کے پودے لگانے کا کام کرتی ہیں ۔ یہ باغات سوشل فارسٹری کے حکام اور وی پی پی سیز کے نمائندوں کے ذریعے مشترکہ طور پر محفوظ اور سائنسی طور پر منظم کئے جاتے ہیں ۔ گرام پنچائت کے گھرانے باغات کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں چارہ ، ایندھن کی لکڑی اور چھوٹی لکڑی کی مفت فراہمی منصفانہ بنیادوں پر حاصل کر کے فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔ سال 2021-22 کے دوران 1646 گرام پنچائتوں کے 20850 دیہی گھرانوں میں 32112 کوئینٹل چارہ ، 16580 کوئنٹل ایندھن کی لکڑی مفت تقسیم کی گئی اور اس طرح مویشیوں پر مبنی دیہی معیشت کو قابل قدر مدد فراہم کی گئی ۔ جموں و کشمیر حکومت نے پختہ باغات کی فروخت سے حاصل ہونے والے 75 فیصد فنڈز کو گاؤں پنچائت فنڈز میں منتقل کرنے کی دفعات نافذ کی ہیں ۔ ان فنڈز میں جمع ہونے والی رقم وی پی پی سیز کے ذریعے جنگلات کی سرگرمیوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے اور اس کا کچھ حصہ گاؤں کے دیگر افادیت کے کاموں جیسے گاؤں کے راستوں اور سڑکوں ، کھیلوں کی سہولیات ، اسکولوں کی بہتری ، صحت کی سہولیات ، پینے کے پانی اور دیگر کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ پچھلے کچھ برسوں میں بہت ساری ترقی پسند گرام پنچائتوں نے کامیابی کے ساتھ دستیاب خالی زمینوں پر شجرکاری کی ہے اور اپنی پنچائتوں کی ضروریات کے مطابق اس طرح کی ترقیاتی سرگرمیوں کی مالی اعانت کیلئے ’ گاؤں پنچائت فنڈز ‘ قائم کئے ہیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جولائی 2021ء میں ایسی 41 گرام پنچایتوں کو 5لاکھ روپے سے 30لاکھ روپے تک کی چیک حوالے کرتے ہوئے محکمہ سوشل فارسٹری اور گرام پنچایتوں کی کامیاب شراکت پر اَپنی مسرت کا اظہار کیا اوراِس عمل میں زیادہ سے زیادہ گرام پنچایتوں کو شامل کرنے پر زور دیا۔2022 ء میں 30 لاکھ روپے کے فنڈز پانچ گرام پنچایتوں کو منتقل کئے گئے اور محکمہ کے سرکاری بیان کے مطابق موجودہ سال میں یہ تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہو سکتی ہے جس سے 30 سے زیادہ جی پیز کو فائدہ پہنچے گا ۔ اشتراکی کام کا یہ ماڈل پی آر آئیز کو بااختیار بنانے اور جموں و کشمیر کے ترقیاتی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں ان کے فعال کردار کی طرف پنچایتی راج ایکٹ کی عمل آوری میں ایک اہم سنگِ میل ہے ۔ ڈیپارٹمنٹل کمیونیک کے مطابق اس طرح کی کامیابی کی کہانیوں کے بعد بہت سی دوسری گرام پنچائتیں آگے آ رہی ہیں اور پودے لگانے اور سلوی چراگاہ کے ماڈل کو بڑھانے کیلئے زمینوں کے پارسل پیش کر رہی ہیں ۔ گرام پنچائتوں کی فعال شراکت کے ساتھ مالی سال 2022-23 ء کے دوران 3500 جی پی میں 32 لاکھ پودے لگائے جا رہے ہیں جو کہ 2017-18 ء سے پہلے کی اوسط کامیابیوں کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے اور اس کی توقع ہے ۔ سرکاری علانیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ آنے والے مالی سال میں کامیابیوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔ اِن وِلیج ووڈلاٹس سے چارہ ، ایندھن کی لکڑی ، چھوٹی لکڑی جیسے متعدد فوائد گاؤں کے گھرانوں کو مسلسل اور مساوی بنیادوں پر مفت مل رہے ہیں ۔ پختہ باغات کی کٹائی سے لکڑی پر مبنی مقامی صنعتوں کو خام مال ملتا ہے اس طرح روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ قدرتی جنگلات سے باہر کی زمینوں پر شجرکاری کا قیام جموں و کشمیر میں جنگلات اور درختوں کے احاطہ میں اضافہ کرنے میں مدد دے رہا ہے ۔ پی سی سی ایف /محکمہ سوشل فارسٹری جے اینڈ کے کے ڈائریکٹر روشن جگی نے اس ابھرتے ہوئے ورکنگ ریلیشن شپ پر امید اور اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔قدرتی جنگلات کے باہر درختوں کی پیداوار کو فروغ دینا ایک جیت کی صورت ہے کیونکہ اس سے درآمدات پر انحصار کم ہو گا اور لکڑی پر مبنی صنعتوں کو سستے نرخوں پر خام مال کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا ، مقامی لوگوں کی حقیقی ضروریات پوری ہوں گی اور پائیدار ترقی کے اہداف ( ایس ڈی جیز ) اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنگلات کا احاطہ شامل کرکے اور کاربن سنک بنا کر بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں بھی مدد کرے گا ۔