نئی دہلی/ایجنسیز//سپریم کورٹ نے آج مدراس ہائی کورٹ کے اُس حکم پر عبوری روک لگا دی، جس میں ریاست تمل ناڈو میں عیدالاضحیٰ (بقرعید) سمیت سال کے کسی بھی دن گائے یا بچھڑے کے ذبح پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے تمل ناڈو حکومت کی جانب سے دائر خصوصی درخواستِ سماعت (ایس ایل پی) پر نوٹس جاری کرتے ہوئے عبوری حکم صادر کیا۔ عدالت نے ابتدائی طور پر مشاہدہ کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا آخری حصہ، جس میں ریاست بھر میں مکمل پابندی عائد کی گئی، بظاہر اصلاح کا متقاضی ہے۔ریاست کی جانب سے سینئر وکیل ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ تمل ناڈو اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1958 کے خلاف ہے۔ اس قانون کے تحت 10 سال سے زیادہ عمر کی ایسی گائیں، جو کام یا افزائش کے قابل نہ ہوں، مجاز اتھارٹی کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ذبح کی جا سکتی ہیں۔حکومت نے عدالت کو بتایا کہ جانوروں کے ذبح سے متعلق دیگر قوانین، جن میں پریوینشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1960، سلاٹر ہاؤس رولز 2001، تمل ناڈو اربن لوکل باڈیز ایکٹ 1998 اور اربن لوکل باڈیز رولز 2023 شامل ہیں، ذبح کے ضوابط تو مقرر کرتے ہیں، لیکن مکمل پابندی عائد نہیں کرتے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے ایسا حکم دے کر قانون سازی کی جگہ عدالتی قانون سازی کر دی۔یہ حکم 27 مئی کو مدراس ہائی کورٹ کی جسٹس جی آر سوامی ناتھن اور جسٹس وی لکشمی نارائنن پر مشتمل بنچ نے ہندو مکل کچی کے جنرل سیکریٹری کے سوریہ پرشانت کی مفادِ عامہ کی درخواست پر دیا تھا۔ درخواست میں صرف یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ بقرعید کے موقع پر ذبح صرف مقررہ مقامات پر ہو، لیکن ہائی کورٹ نے پورے تمل ناڈو میں کسی بھی دن گائے اور بچھڑے کے ذبح پر مکمل پابندی لگا دی۔اپنے فیصلے میں ہائی کورٹ نے ایک سرکاری حکم نامے کا حوالہ دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ گائے کے ذبح پر پابندی سے دودھ کی پیداوار اور دیہی معیشت کو فروغ ملے گا۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا، جن میں کہا گیا تھا کہ بقرعید پر گائے کی قربانی اسلام کا لازمی مذہبی عمل نہیں ہے۔تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ جب قانون مخصوص شرائط کے تحت بعض گایوں کے ذبح کی اجازت دیتا ہے تو اس کے برعکس عدالتی حکم برقرار نہیں رہ سکتا۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے ایسے سرکاری حکم نامے پر انحصار کیا، جس کی قانونی حیثیت یا اطلاق خود مقدمے میں زیر بحث ہی نہیں تھا۔حکومت نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ میں دائر درخواست صرف کوئمبتور میں بقرعید کے دوران عوامی مقامات پر گائے کے ذبح کو روکنے تک محدود تھی، لیکن عدالت نے درخواست کے دائرے سے باہر جا کر مقررہ سلاٹر ہاؤسز میں بھی گائے کے ذبح پر مکمل پابندی عائد کر دی، حالانکہ درخواست گزار نے ایسی کوئی استدعا نہیں کی تھی۔ ریاست کے مطابق ہائی کورٹ نے ایک طرف یہ کہا کہ جانوروں کا ذبح صرف مقررہ سلاٹر ہاؤسز میں ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف گائے اور بچھڑے کے ذبح پر ہر حال میں پابندی لگا دی، جس سے فیصلہ خود اپنے اندر تضاد کا شکار ہو گیا۔حکومت نے ہائی کورٹ کے اس مشاہدے سے بھی اختلاف کیا کہ حکام نے عوامی مقامات پر گائے کے ذبح کا اعتراف کیا تھا۔ ریاست کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنے جواب میں واضح کیا تھا کہ عوامی مقامات پر ذبح روکنے کے لیے پہلے ہی احتیاطی اقدامات کیے جا چکے ہیں اور اگر قربانی ہوگی بھی تو صرف بند اور غیر عوامی مقامات پر ہوگی۔یہ خصوصی درخواست تمل ناڈو حکومت کی جانب سے اس کی اسٹینڈنگ کونسل جے شری نرسمہن نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سُنگل ٹنل کی پیش رفت کا معائینہ کیا
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری میں سیلاب کے بعد کے جائزے کے دوران اِمداد اورباز آباد کاری میں بہتری کی یقین دہانی کی
سکینہ اِیتو نے کے بی پورہ میں ’میگا ہیلتھ کیمپ ‘ کا اِفتتا ح کیا
جاوید رانا نے پونچھ میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
چیف سیکرٹری نے ایس کے آئی سی سی میں آئی ایف اے ڈِی پروجیکٹ پارٹنر ز لرننگ فورم ۔2026 کا اِفتتاح کیا
ڈِی آئی پی آر نے مقامی فلمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کیلئے آئی ایف ایف جے کے ایمرجنگ فلم میکرز کمپٹیشن۔2026 کا اعلان کیا
جموں و کشمیر میں رواں سال 35 بادل پھٹنے کے واقعات میں 31 ہلاکتیں
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے رائیل سپرنگس گالف کورس میں پی جی ٹی آئی گالف ٹورنامنٹ کا آغاز کیا
نائب وزیراعلیٰ نے جے کے منرلزلمٹیڈکی 176 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ کی صدارت کی










