چیف سیکرٹری نے ایس کے آئی سی سی میں آئی ایف اے ڈِی پروجیکٹ پارٹنر ز لرننگ فورم ۔2026 کا اِفتتاح کیا

چیف سیکرٹری نے ایس کے آئی سی سی میں آئی ایف اے ڈِی پروجیکٹ پارٹنر ز لرننگ فورم ۔2026 کا اِفتتاح کیا

سری نگر// دو روزہ آئی ایف اے ڈِی پروجیکٹ پارٹنرز لرننگ فورم ۔2026 جو مشن ڈائریکٹوریٹ جموں وکشمیر کمپٹیٹوینس امپروومنٹ پروجیکٹ ( جے کے سی آئی پی ) / جامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی ) ،محکمہ زرعی پیداوار کے تحت منعقد کیا گیا ،آج شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) سری نگر میں شروع ہوا۔اس لرننگ فورم کا موضوع ’’خواتین کسانوں کا بین الاقوامی سال منانا: خواتین کو بااِختیار بنانا، زراعت کو تبدیل کرنا‘‘ رکھا گیا تھا۔ اِس میں سینئر سرکاری اَفسران، اِنٹرنیشنل فنڈ فار ایگری کلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈِی) کے نمائندگان، پورے ہندوستان میںآئی ایف اے ڈِی کے تعاون یافتہ پروجیکٹوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز، ترقیاتی ماہرین، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، کاروباری اَفراد اور دیگر شراکت داروںنے شرکت کی تاکہ جامع اوردیرپا زرعی ترقی کے جدید طریقوں پر غور و خوض کیا جا سکے۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِفتتاحی سیشن کی صدارت کی جنہوں نے لرننگ فورم کا باقاعدہ اِفتتاح کیا اور اِجتماع سے خطاب کیا۔اُنہوں نے اَپنے کلیدی خطاب میں زرعی شعبے کو مضبوط بنانے میں ٹیکنالوجی، اِختراعات اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے تبدیلی کردار پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے حکومتی اِداروں ، ترقیاتی شراکت داروں او رکسان کمیونٹیوں کے درمیان لچک دار اور مارکیٹ پر مبنی زرعی نظام کی تعمیر کے لئے زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔اَتل ڈولو نے دیہی تبدیلی کے محرک کے طور پر خواتین کسانوں کی اہمیت کو بھی اُجاگر کیا اور ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور کاروباری صلاحیت کے ذریعے انہیں بااِختیار بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وائس چانسلر سکاسٹ پروفیسر نذیر احمد گنائی نے شرکأ سے بھی خطاب کیا۔اُنہوں نے زرعی پیداوار اور دیرپائی کو بڑھانے میں تحقیق، اِختراعات اور سائنسی مداخلتوں کے اہم کردار پر زور دیا۔ اُنہوں نے تحقیقی اِداروں، توسیعی ایجنسیوں اور کسانوں کے درمیان مضبوط روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کو اَپنانے اور دیہی معاش کو بہتر بنایا جا سکے۔ اِس سے قبل مشن ڈائریکٹر ایچ اے ڈِی پی / جے کے سی آئی پی ڈاکٹر ساگر ڈی دتاترے نے مندوبین کا خیرمقدم کیا اور لرننگ فورم کے مقاصد کو واضح کیا۔ اُنہوں نے جے کے سی آئی پی کے تحت ادارہ جاتی نظاموں کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل زراعت کو فروغ دینے، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز کی معاونت کرنے، زرعی سٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرنے اور جموں و کشمیر بھر میں دیرپا معاش کے مواقع پیدا کرنے میں حاصل کی گئی نمایاں پیش رفت کو اُجاگر کیا۔ جیمز مارک ڈی سوزا شیلڈز، کنٹری ڈائریکٹر، آئی ایف اے ڈی انڈیا نے بھی شرکاء￿ سے خطاب کیا اور شراکت داری، جدت طرازی اور علم کے تبادلے کے ذریعے جامع دیہی تبدیلی کی حمایت کے لیے آئی ایف اے ڈی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ایک مضبوط ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام اور کمیونٹی پر مبنی نفاذی ماڈل قائم کرنے میں جے کے سی آئی پی کی پیش رفت کو سراہا۔کنٹر ی ڈائریکٹر آئی ایف اے ڈِی اِنڈیا جیمز مارک ڈی سوسا شیلڈز نے بھی شرکاٌسے خطاب کیا اور شراکت داری، اختراعات اور علم کے اشتراک کے ذریعے جامع دیہی تبدیلی کا سپورٹ کرنے کے لئے آئی ایف اے ڈِی کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے ایک مضبوط ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام اور کمیونٹی سے چلنے والے نفاذ کے ماڈل کے قیام میں جے کے سی آئی پی کی طرف سے پیش رفت کی سراہنا کی۔اِفتتاحی سیشن کی ایک بڑی خصوصیت جے کے سی آئی پی کے تحت تین اہم علمی اور ڈیجیٹل اقدامات کا آغاز تھا۔ معززین نے جے کے سی آئی پی پلس جو کہ منصوبے کا سہ ماہی علمی نیوز لیٹر ہے اور اختراعات، فیلڈ تجربات اور ادارہ جاتی سیکھنے کو دستاویزی شکل دیتا ہے، کا چوتھا شمارہ جاری کیا۔ اُنہوں نے جے کے سی آئی پی سالانہ رپورٹ 2025-26 بھی جاری کی جس میں اس کے نفاذ کے پہلے پورے سال کے دوران منصوبے کی کامیابیوں کی نمائش کی گئی۔اِس موقعہ پر کرشی مترا اے آئی کا آغاز بھی ہوا جو کہ ایک آرٹیفیشل اِنٹلی جنس پر مبنی فصل کی مشاورت اور پتوں کی تشخیص کا پلیٹ فارم ہے جسے ادارے کے اندر ہی تیار کیا گیا ہے تاکہ جے کے سی آئی پی ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے ذریعے کسانوں کو ذہین، ذاتی نوعیت کی اور ڈیٹا پر مبنی مشاورتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔اس فورم میں زراعت میں جدت طرازی اور کاروباری صلاحیت کو ظاہر کرنے والی نمائش بھی شامل تھی۔ جے کے سی آئی پی کے تحت معاونت یافتہ دس سٹارٹ اپس نے اپنی ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور حل پیش کئے جو درست زراعت، زرعی پروسسنگ، ڈیجیٹل خدمات اور ویلیو ایڈیشن پر مشتمل تھے۔ پانچ فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) نے اعلیٰ قدر کی زرعی اور باغبانی مصنوعات کی متنوع رینج کی نمائش کی جو جموں و کشمیر میں اجتماعی کسان کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ اِس کے علاوہ محکمہ زراعت کشمیر، محکمہ باغبانی کشمیر، اور ہارٹی کلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ (ایچ پی ایم) کی طرف سے موضوعاتی نمائشی سٹال قائم کئے گئے جو یوٹی میں کئے گئے فلیگ شپ اقدامات، کسان مرکوز مداخلتوں اور ویلیو چین کی ترقی کی کوششوں کو اُجاگر کرتے ہیں۔لرننگ فورم کے دوسرے دن موضوعاتی مباحثے، مختلف ریاستوں سے آئی ایف اے ڈی کی مدد سے چلنے والے پروجیکٹوں کے تجربات کے اِشتراک کے سیشنز اور کامیاب فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، زرعی سٹارٹ اپس اور جے کے سی آئی پی کے تحت تعاون یافتہ سینٹرز آف ایکسی لنس کے فیلڈ وِزٹ شامل ہوں گے۔