نجی ٹرسٹ وقف جائیداد کے سرکاری انتظام سنبھالنے کی مخالفت کا حق نہیں رکھتا
سرینگر// جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کوئی بھی نجی ٹرسٹ، جو کسی مذہبی زیارت کا انتظام بغیر قانونی اختیار یا تسلیم شدہ حق کے سنبھال رہا ہو، وہ وقف حکام کی جانب سے اس کے انتظام سنبھالنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ عدالت نے سائیں میراں بابا درویش غلام قادر ٹرسٹ کی دونوں عرضیاں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ضلع پونچھ میں واقع حضرت سائیں بابا میراں بخش صاحبؒکی زیارت برسوں سے عوامی عبادت اور عقیدت کا مرکز رہنے کے باعث “وقف بذریعہ استعمال” کی قانونی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق جسٹس سنجے پریہار نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ سائیں بابا میراں بخش صاحبؒ یا ان کے جانشین درویش غلام قادر صاحب نے اپنی زندگی میں نہ کوئی ٹرسٹ قائم کیا اور نہ ہی زیارت کو نجی ٹرسٹ کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی دستاویز مرتب کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوام کی مسلسل آمد، عبادت اور نذرانوں کے باعث یہ مقام وقف کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے اس کا انتظام سنبھالنا مکمل طور پر قانونی ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سال 2000 میں اْس وقت کے تحصیل وقف کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے جاری کیا گیا وہ اعلامیہ، جس میں زیارت کو نجی ادارہ قرار دیا گیا تھا، قانونی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ وقف ایکٹ کے تحت چیئرمین کو کسی جائیداد کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ یہ اختیار صرف تحصیل وقف کمیٹی کو حاصل ہے۔عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ وقف حکام نے انتظام سنبھالنے میں تاخیر کی، اور کہا کہ اگر تاخیر ہوئی بھی ہو تو اس سے نجی ٹرسٹ کو زیارت کے انتظام پر کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ہائی کورٹ نے 31 جولائی 2026 کو سنائے گئے اپنے حتمی فیصلے میں 2011 اور 2019 سے نافذ تمام عبوری حکم امتناعی بھی ختم کر دیے اور واضح کیا کہ چونکہ درخواست گزار ٹرسٹ نے بغیر کسی قانونی اختیار کے زیارت کا انتظام سنبھالا تھا، اس لیے وہ وقف حکام کے قانونی اقدام کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے دونوں رٹ درخواستیں خارج کرتے ہوئے جموں و کشمیر وقف بورڈ کے انتظامی اختیار کو برقرار رکھا۔










