سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی تعداد 3 برس میں 4,811 کم ہوگئی

184 سرکاری کالج قائم، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مظبوط سرکاری تعلیمی نیٹ ورک// وزیر تعلیم

سرینگر// مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن 2023-24 کے مطابق جموں و کشمیر میں اس وقت 184 سرکاری کالج قائم ہیں، جس سے یہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مضبوط سرکاری نیٹ ورک رکھنے والے علاقوں میں شامل ہے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانتا مجمدار نے ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ملک بھر میں اس وقت مجموعی طور پر 7,944 سرکاری کالج، بشمول گورنمنٹ ڈگری کالج، موجود ہیں، جن میں جموں و کشمیر کے 184 جبکہ ہمسایہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ کے چھ سرکاری کالج شامل ہیں۔وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم مشترکہ فہرست کا موضوع ہے اور بیشتر اعلیٰ تعلیمی اداروں کا انتظام ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر بالخصوص تعلیمی لحاظ سے پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے کام کر رہی ہیں۔مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہ راشٹریہ اْچّتر شکشا ابھیان کو ازسرنو ترتیب دے کر پردھان منتری اْچّتر شکشا ابھیان میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کے تحت تعلیمی انفراسٹرکچر، ہاسٹل، لیبارٹریاں، اسمارٹ کلاس رومز اور تدریسی عمارتوں کی تعمیر کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ مرکزی بجٹ کے تحت آئی آئی ٹی جموں میں ریسرچ پارک کے قیام سمیت تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ پانچ نئے آئی آئی ٹیز کیلئے 11,828.79 کروڑ روپے کے پروگرام کا حصہ ہے، جس سے طلبہ کی گنجائش اور تحقیقی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں گزشتہ تین تعلیمی برسوں کے دوران اساتذہ کی تعداد میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 سے 2025-26 کے درمیان سرکاری اسکولوں کے تدریسی عملے میں مجموعی طور پر 4,811 اساتذہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔مرکزی وزارتِ تعلیم کی جانب سے راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ دار سوال کے تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تعداد 2023-24 میں 96 ہزار 380 تھی، جو 2024-25 میں کم ہو کر 94 ہزار 202 رہ گئی، جبکہ 2025-26 میں مزید گھٹ کر 91 ہزار 569 رہ گئی۔ اس طرح تین برس کے دوران تدریسی عملے میں تقریباً پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔وزارت نے واضح کیا کہ اگرچہ مرکز سمگر شکشا اسکیم کے تحت مالی معاونت فراہم کرتا ہے، تاہم اساتذہ کی بھرتی، تعیناتی، منظور شدہ اور خالی آسامیوں کا ریکارڈ رکھنا متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ذمہ داری ہے۔تحریری جواب میں کہا گیا کہ اساتذہ کی آسامیاں ریٹائرمنٹ، استعفوں، نئی آسامیوں کی تخلیق، طلبہ کے اندراج میں اضافے اور نئے اسکولوں کے قیام کے باعث پیدا ہوتی رہتی ہیں، جبکہ ان آسامیوں کو پر کرنے کا عمل متعلقہ حکومتیں اپنے بھرتی قوانین اور ضابطوں کے مطابق انجام دیتی ہیں۔وزارتِ تعلیم نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں اور یوٹیز کو شفاف اور میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے ذریعے خالی تدریسی آسامیوں کو جلد پْر کرنے کی مسلسل ہدایت دی جاتی ہے، جبکہ محکمہ اسکولی تعلیم وقتاً فوقتاً بھرتیوں کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیتا ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ بندی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔