کٹھوعہ میں مشتبہ افراد کی نقل و حمل کے بعد تلاشی شروع کی گئی

گاؤں والوں کو الرٹ رہنے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا گیا

سرینگر//جموں ڈویڑن کے کٹھوعہ ضلع کے جوتھانہ علاقے میں پیر کی رات دیر گئے مشتبہ افراد کو دیکھے جانے کے بعد منگل کو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔ ضلعی پولیس کے علاوہ فوج اور کمانڈوز پورے علاقے کی تلاشی لے رہے تاہم ابھی تک کسی جگہ مسلح افراد اور فوج کے مابین آمنا سامنے ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مقامی لوگوں نے علاقے میں کچھ مشکوک عناصر کی نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد منگل کو جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے جٹھانا گاؤں میں پولیس نے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔حکام نے بتایا کہ جٹھانا گاؤں کے رہائشیوں نے چھ مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھی اور بعد میں پولیس کو اطلاع دی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس اور فوج کی جانب سے گاؤں میں تلاشی مہم شروع کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پیر کی رات دیر گئے کٹھوعہ کے جوتھانہ علاقے میں ایک مشتبہ شخص کو دیکھے جانے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔جموں ڈویڑن کے کٹھوعہ ضلع کے جوتھانہ علاقے میں پیر کی رات دیر گئے ایک مشتبہ شخص کو دیکھے جانے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔ ضلعی پولیس کے علاوہ فوج اور کمانڈوز پورے علاقے کی تلاشی لے رہے ہیں۔سرچ آپریشن کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز نے بلور کے بھینی نالے کے اطراف بھی سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل رات چار مسلح افراد پولیس چوکی جاکھول کے تحت جوتھانہ گاؤں میں ایک گھر پہنچے اور ایک خاتون سے کھانے کا مطالبہ کیا۔مسلح افراد کو دیکھ کر گھر میں موجود خاتون نے خطرے کی گھنٹی بجائی اور پڑوسیوں کو جمع ہوتے دیکھ کر ملزمان وہاں سے چلے گئے۔ جس کے بعد پولیس اور فوج کو اطلاع دی گئی۔ سرچ آپریشن پیر کی رات تقریباً 10 بجے شروع کیا گیا جو تحریر تک جاری تھا۔سیکورٹی فورسز کی طرف سے ہیلی کاپٹر اور ڈرون کے ذریعے جنگلات اور پہاڑی علاقوں کی آسمان سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اور فوج نے بلور میں مشتبہ افراد کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ ضلع پولیس نے تمام تھانوں، چوکیوں اور پولیس چوکیوں کے انچارجوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ کئی مقامات پر اضافی چوکیاں قائم کرکے گاڑیوں کی چیکنگ شروع کردی گئی ہے۔