سری نگر//جنو بی کشمیر کے ضلع کولگام کے حسن پورہ آرونی بجبہاڑہ گائوں میں اتوار کی سہ پہر سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے مابین شروع ہونے ولا مسلح تصام آرائی پیر کے صبح ختم ہوئی ہے جس میں البدر کے 2ملی ٹینٹ مارے گئے۔پولیس نے بتایا سال نو کے ابتدائی 10روز میں 13ملی ٹینٹ مارے گئے پولیس نے بتایا مارے گئے جنگجومیں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت میں ملوث تھا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پولیس نے بتایا انہیں اتوار کی شام حسن پورہ تویلا نامی بستی میں کم سے کم 2ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فسٹ آر آر ،90بٹاکلین سی آر پی ایف اور بجبہاڑہ پولیس آپریشن گروپ کی خدمات حاصل کر کے آپریشن شروع کیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ سہ پہر قریب 4بجے محاصرہ کیا گیا اور گائوں کی ناکہ بندی کر کے ملی ٹینٹوں کے ممکنہ فرار ہونے کے راستے بند کئے گئے۔پولیس نے بتایا کہ قریب پونے5بجے ممکنہ جگہ پر موجود ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیاں گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جو کچھ منٹ تک جاری رہا جس کے بعد خاموشی چھا گئی۔لیکن شام کے وقت طرفین کے درمیان دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔پولیس نے بتایا کہ بستی میں موجود ملی ٹینٹوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی اور گائوں کے بزرگوں کی بھی خدمات حاصل کی گئیں لیکن ملی ٹینٹوں نے خود سپردگی کی پیش کش ٹھکرائی۔رات بھر جاری رہنے والی اس تصادم آرائی میں پیر کے صبح پولیس نے جائے جھڑپ سے 2مقامی ملی ٹنٹوں کی لاشیں برآمد کر لی ہے پولیس نے بتایا دونوں ملی ٹینٹ البدر تنظیم سے وابستہ ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ دو میں سے ایک کی شناخت عماددوانی کے طور کی گئی ہے ۔پولیس نے بتایاعماد پلوامہ میں ایک پولیس اہلکار مشتاق احمد وگے پر حملے میں ملوث تھا جو شدید زخمی ہوا تھا۔خیال رہے وادی کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مسلسل جنگجو مخالف آپریشنوں میں متعدد ملی ٹنٹوں کو مختلف تصادم آرائیوں میںمارا گیا ہے جس میں کئی کمانڈر بھی شاملتھے پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ جنوری کے 9 دنوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے 13جنگجووں کو مار گرایا ہے۔










