کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری ، گجرات کے وفد نے لفٹینٹ گورنر سے ملاقات کی

سرینگر//کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری ( سی آئی آئی ) گجرات کے ایک وفد نے اس کے چئیر مین مسٹر آنند دیسائی کی قیادت میں آج یہاں راج بھون میں لفٹینٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی ۔ میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے کی ترقی پر نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ۔ 14 رُکنی وفد جس میں چئیر مین سی آئی آئی گجرات مسٹر آنند دیسائی ، سابق چئیر مین سی آئی آئی گجرات مسٹر ونود اگروال ، چئیر مین سی آئی آئی جے اینڈ کے سید جاوید سید ، سربراہ سی آئی آئی جے اینڈ کے مسٹر خورشید ڈار کے علاوہ تنظیم کے دیگر عہدیداروں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا تا کہ وہ کاروبار کے مواقع تلاش کریں اور صنعتوں کیلئے اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری قائم کریں ۔ وفد کے ارکان نے یو ٹی انتظامیہ کی طرف سے لائی گئی صنعت دوست اور سرمایہ کاری میں معاون پالیسیوں کی تعریف کی ۔ تجارتی وفد نے جموں و کشمیر کے صنعتی علاقوں کے اپنے دورے اور صنعتوں کے نمائندوں اور یو ٹی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کا خوشگوار تجربہ بھی شئیر کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے وفد کے ارکان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹی انتظامیہ جموں و کشمیر میں صنعتی ایکو سسٹم کو فروغ دینے میں ثابت قدم ہے جس کیلئے 56000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجاویز پہلے ہی پرائیویٹ انڈسٹریل اسٹیٹس کی ترقی کیلئے محکمہ صنعت و تجارت جموں و کشمیر کو موصول ہو چکی ہیں ۔ اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ یو ٹی میں فی الحال ایک لاکھ کروڑ روپے کے سڑک اور سرنگ کے منصوبے زیر تکمیل ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ جموں ۔ سرینگر ہائی وے اور دہلی ۔ کٹرہ ایکسپریس وے کی تکمیل کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں گرین فیلڈ ایکسپریس وے ہو گا ۔ اس کے علاوہ اگلے سال کشمیر کو کنیا کماری سے ریل رابطے کے ذریعے جوڑا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں اور سرینگر جانے والی پروازوں کی تعداد میں بھی گذشتہ چند مہینوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے یو ٹی میں صنعتی شعبے کی تیز رفتار ترقی کیلئے ایک ساز گار ماحول پیدا ہوا ہے ۔ میٹنگ کے دوران محکمہ صنعت و تجارت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری مسٹر وویک بھردواج بھی موجود تھے ۔