13جولائی کی چھٹی منسوخ کرنااورلوگوںکومزارشہداء جانے سے روکنا بدقسمتی:ڈاکٹر فاروق
سری نگر//سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنسی کا کارواں اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک مرکزی حکومت کشمیری عوام کے دل نہیں جیتے گی اور پڑوسی ملک(پاکستان) کے ساتھ مذکراتی عمل میں شامل نہیں ہوتی۔جے کے این ایس کے مطابق13جولائی کے شہدائے کشمیرکی سالگرہ کے موقعہ پرسری نگر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنسی اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک مرکزی حکومت عوام کے دل جیتنے کی کوشش نہیں کرتی ہے اور ساتھ ہی پڑوسی ملک(پاکستان) کے ساتھ بات چیت کے عمل میں شامل نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوگا جب تک کہ آپ لوگوں کے دل نہیں جیتیں گے۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنسی کا کارواں اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ (کشمیر)مسئلہ پڑوسی ملک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل نہیں ہو جاتا اور کوئی حل تلاش نہیں کیا جاتا۔انہوںنے کہاکہ ہم اس آفت میں مر جائیں گے اور کوئی توجہ نہیں دے گا۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی وزراء اکثر اعلان کرتے ہیں کہ ملی ٹنسی ختم ہو جائے گی، لیکن میں ان سے کہہ رہا ہوں کہ یہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک آپ کشمیر کے لوگوں کا دل نہیں جیت لیں گے۔انہوں نے کہاکہ جب تک اور جب تک ہم کشمیر مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع نہیں کرتے، جموں و کشمیر میں لوگوں کو مرنا اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ ملی ٹنسی کسی بھی کیمونٹی یا کسی کو نشانہ بناتے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق نے لال بازار میں ملی ٹنٹ حملے کی بھی مذمت کی جس میں ایک اے ایس آئی مارا گیا تھا، جب کہ2 دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ جاں بحق ہوئے اے ایس آئی کے اہل خانہ کی مدد کرے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔فاروق عبداللہ نے مزید کہاکہ متوفی اے ایس آئی کے خاندان کو اچھی طرح سے معاوضہ دیا جانا چاہئے تاکہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان اتحاد اور تنوع کا ملک ہے۔ ہندوستان ایک متنوع ملک ہے، جو کچھ تمل ناڈو اور کشمیر میں ہے، نہ ثقافت، کھانا اور نہ ہی موسم مشترک ہے اور نہ ہی موازنہ میں لیکن جو چیز ہمیں ایک ساتھ رہنے پر مجبور کرتی ہے وہ ہندوستان کا اتحاد ہے۔ ہمیں اس تنوع کو مضبوط کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ہم ملک کے اتحاد کی طرف لے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے تنوع کو توڑنے کی کوشش کی تو ملک بدحالی کا شکار ہو جائے گا اور اس سے نکلنا بہت مشکل ہو گا۔13 جولائی یوم شہداء کشمیر کے حوالے سے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ انہوں نے (حکومت) 13 جولائی کے شہداء کے موقع پر چھٹی منسوخ کر دی ہے اور لوگوں کو شہر خاص میں واقع نقشبند صاحب قبرستان میں خراج عقیدت پیش کرنے سے روک دیا ہے۔










