دودھ پتھری خانصاحب//کشمیر مرکزادب وثقافت ،کلچرل یونٹ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ اور محکمہ سیاحت کے باہمی اشتراک سے خوبصورت ترین سیاحتی مقام دودھ پتھری بڈگام میں ایک پر وقار اَدبی سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ ادبی سمینار میں ایڈوکیٹ بابا خالق کی طرف سے حضرت شیخ العالم ؒ پر لکھی گئی تصنیف۔’’ سخنات الحیات ‘‘اور پروفیسر محمد زمان آزردہ صاحب کی تصنیف’’ننہ پوش‘‘ کے جدید ایڈیشن کی رسم رونمائی کے علاوہ محفل مقالات اور محفل مشاعرہ بھی منعقدہوا۔ اِس سمینار میں وادی کے سرکردہ ادباء، شعرا ، دانشور اور ادب نواز شخصیات نے شمولیت کی۔ 25 ؍ستمبر کی شام آٹھ بجے سے لے کر 11 بجے رات تک محفل مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر شاد رمضان نے کی۔ اِس میں مقتدر شعرا نے اپنا تازہ کلام سنایا جن میں علی احسن ، یونس وحید،مشتاق محرم،پروفیسر فاروق فیاض ،پروفیسر زمان آزردہ، سیّد شکیل شان اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ نظامت کے فرائض عنایت گل نے انجام دئیے۔ 26 ؍ماہ ستمبر گیارہ بجے صبح دو کتابوں کی رسم رونمائی اَنجام دی گئی پہلی کتاب ’’ سخنات الحیات‘‘ مصنف بابا خالق مہارازا۔ اس مجلس کی صدارت ادبی مرکز کمراز کے صدر محمد امین بٹ نے کی جبکہ مہمان خصوصی پروفیسر محمد زمان آزردہ صاحب تھے۔ ایوان صدارت میں پروفیسر شاد رمضان اور سیّف شکیل شان بھی موجود تھے۔ اس کتاب پر مشتاق محرم ، علی احسن اور عنایت گل نے مقالے پڑھے۔ اس کتاب کے حوالے سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ سات سو صفحات پر مشتمل کتاب جس میں کلام شیخ العالم ؒاور فقیر صدر صاحب کا نادر صوفیانہ کلام درج کیا گیا ہے۔ پروفیسر محمد زمان آزردہ کی لکھی کتاب ’’ ننہ پوش ‘‘ کی رسم رونمائی انجام دی گئی۔اس مجلس کی صدارت کے فرائض پروفیسر فاروق فیاض نے انجام دئیے جبکہ ایوان صدارت میں پروفیسر شاد رمضان اور مشتاق محرم بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پرمحکمہ اطلاعات کے کلچرل شعبے کی طرف سے محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ شاندار سمینار انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ آخر پر یونس وحید نے ٹورازم ڈیولپمنٹ اَتھارٹی دودھ پتھری تمام مہمانوں کا شکریہ اَدا کیا۔ مرکز اَدب کے زعماء نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا خاص کر نیوز یونٹ دوردرشن سری نگرکے سربراہ قاضی سلمان ، نیوز 18 کے سربراہ راجیش رینہ ، برایٹر کشمیر ،تعمیل ارشاد ، گریٹر کشمیر ،کشمیر عظمیٰ، آفتاب اور دیگر مقامی روز ناموں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جو ایسے پروگراموں کی تشہیر کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔










