کشمیریوں کیساتھ ناانصافی کی گئی اور آج کی جارہی ہے

نئی دلی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور مستقبل میںنہ دہرائیں/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر //’’جب تک آپ دل نہیں کھولیں گے اور یہ بات تسلیم نہیں کریں گے کہ ماضی میں غلطیاں ہوئیں ہیں اور مستقبل یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گیکی بات کرتے ہوئے صدرِ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ر اس بات کا احساس اپنے اندر لائیں گے کہ ہم اس قوم کا حصہ ہیں تب تک کشمیری کبھی بھی آپ (بھارت) کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘‘سی این آئی کے مطابق انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دلی میں سینئر صحافی برج بردواج کی تصنیف کردہ کتاب “GLIPMS”کی رسم اجرائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ ’’کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی کی گئی اور آج بھی مسلسل ناانصافی ہورہی ہے، جب تک آپ اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیںکریں گے کشمیری آپ کا حصہ کبھی نہیں بنیں گے، میں یہ بات ایمانداری کیساتھ کہتا ہوں کیونکہ کشمیری اس ماحول کیساتھ نفرت کرتے ہیں جو ملک میں پیدا کیا گیا اور کیا جارہاہے، محض الیکشن جیتنے کیلئے ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے ساتھ لڑوایا جارہاہے، میں 86سال کا ہوں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ میں اس وقت تک اس دنیا سے نہ جائوں جب تک یہ ملک تبدیل ہوجائے،جب ہم صحیح معنوں میں انسان بن جائیں، جب ہم انتخابات مفادات سے بالاتر ہوکر اپنے ملک اور اپنے بچوں کے مستقبل کو ترجیح نہیں دیںگے ۔‘‘جموں و کشمیر میں بتدریج امن کی واپسی کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا، ’’اگر امن بحال ہو رہا ہے، تو حکومت وہاں کام کرنے والے پنڈتوں ملازمین کو واپس جانے کیلئے قائل کیوں نہیںکر پارہی ہے، اور انہیں نوکریوں سے نکالنے اور تنخواہوں سے محروم کرنے کی دھمکیاں کیوں دی جارہی ہیں؟اگر جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری عروج پر اور امن و امان کا ماحول ہے تو پھر کشمیری پنڈت اب بھی وہاں جانے سے کیوں گریزاں ہیں؟ ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں اس وقت تمام نظام سیاسی وابستگیوں اور سیاسی انتقام گیری کی بنا پر ہورہاہے ۔