سری نگر//افغانستان کی راجدھانی کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں غیر ملکی شہری کابل ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں جن میں چندکئی کشمیری بھی ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔خیال رہے مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ انہوں نے وزارت خارجہ سے اس مسئلہ پر بات کی ہے۔ تاہم آج بھی یہ افغانستان میں پھنسے کشمیری حکومت سے مدد کی فریاد کر رہے ہیں۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق افغانستان میں پھنسے کولگام ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف شاہ نے کہا کہ وہ گذشتہ2 روز سے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کابل ایئرپورٹ پر موجود ہیں لیکن بھارت کے سفارتخانہ سے ان درماندہ مسافروں کے لئے کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے۔اس ضمن میں انہوں نے حکومت کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ250 بھارتی شہری کابل ائرپورٹ کے باہر 3 روز سے پھنسے ہوئے ہیں لیکن سفارتخانہ یا بھارتی حکومت کی جانب سے ان کو کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔کشمیر کے ضلع کولگام سے ہی آصف شاہ کے ساتھ عادل رسول شیخ بھی بختار یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے گذشتہ دنوں ٹویٹ میں کہا تھا کہ میں پروفیسر آصف احمد اور پروفیسر عادل رسول کے اہل خانہ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ محفوظ ہیں اور جلد گھر پہنچ جائیں گے۔










