نشہ مکت مہم کے بعد رشوت خوری مخالف مہم چلانے کا مطالبہ
سرینگر// یو این ایس / جموں و کشمیر میں “نشہ مکت جموں کشمیر” مہم کے تحت چلائی گئی 100 دن کی مہم کی شاندار کامیابی کے بعد اب عوام نیایل جی انتظامیہ سے اسی طرز پر بدعنوانی اور کرپشن کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر مہم شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہیتاکہ رشوت خوروں کی غیر قانونی جائیدادوں کا بھی پتہ چلے۔یو این ایس کے مطابق پچھلے چند مہینوں میں پولیس، سول انتظامیہ، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں نے مل کر وادی کے ہر ضلع میں نشے کے خلاف زبردست مہم چلائی۔ اسکولوں، کالجوں، پنچایتوں اور محلوں میں سیمینار، ریلیاں، ڈور ٹو ڈور کونسلنگ اور کھیل کود کے پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور کئی مقامات پر نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر نشہ چھوڑنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں منشیات سے حاصل کی گئی کروڑوں روپے مالیت کے اثاثہ جات کو سیل کرکے سینکڑوں ایسے افراد کے خلاف کیس درج کئے جو جموں و کشمیر میں نوجوان نسل کو تباہ کرنے میں ذمہ دار تھے۔اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے اب عام لوگوں، سماجی کارکنوں اور نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں منشیات کی طرح کرپشن بھی ایک ناسور بن چکی ہے جو غریب اور عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔شوپیان ،سرینگر ، بڈگام، بارہمولہ، اننت ناگ، جموں، ادھم پور اور راجوری سمیت کئی اضلاع میں لوگوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بھی رشوت مانگی جاتی ہے، جس سے عام آدمی پریشان ہے۔ایک سماجی کارکن نے کہا، “نشہ مکت مہم نے ثابت کر دیا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر کسی برائی کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسی جذبے اور حکمت عملی کے ساتھ اگر کرپشن کے خلاف بھی 100 دن کی مہم چلائی جائے، ہر دفتر میں سی ٹی وی، آن لائن شکایت پورٹل اور ایماندار افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کرپشن پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔”لوگوں نے مطالبہ کیا کہ گذشتہ2برسوں کے دوران اے سی بی،کرائم برانچ اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی طرف سے پے در پے کارروائیوں کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار کئے گئے ملزموں کی جائیداد کی جانچ کی جائے اور نشہ مکت مہم کی طرز پر ایسی غیر قانونی جائیدادوں اور اثاثوں کو سیل کردیا جائے۔نوجوانوں کا کہنا ہے کہ نوکریوں، ٹھیکوں، اور سرکاری اسکیموں میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے میرٹ کا قتل ہو رہا ہے۔ کئی بے روزگار نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح نشہ فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہوئی، اسی طرح رشوت خور سرکاری ملازمین کے خلاف بھی کھلے عام کارروائی اور ان کی جائیدادوں کی جانچ ہونی چاہیے۔کئی سماجی حلقوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر پنچایت، بلاک اور ضلع سطح پر “کرپشن مکت جموں کشمیر” کے نام سے بیداری کیمپ، حلف برداری تقریبات اور شکایت باکس لگائے جائیں تو لوگوں میں ہمت آئے گی اور وہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھا سکیں گے۔عوام نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور اینٹی کرپشن بیورو سے اپیل کی ہے کہ وہ نشہ مکت مہم کی طرز پر ایک جامع اور مستقل کرپشن مخالف مہم کا آغاز کرے تاکہ جموں کشمیر کو منشیات کے ساتھ ساتھ کرپشن سے بھی پاک کیا جا سکے۔










