حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر تنقید، فوری واپسی کا مطالبہ
سرینگر// یو این ایس / پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے آج نیشنل کانفرنس حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف کشمیر بھر کے ضلعی ہیڈکوارٹروں پر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔پارٹی نے بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے عام لوگوں پر بوجھ قرار دیا۔ پی ڈی پی رہنماوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں نے غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔احتجاج کے دوران پی ڈی پی کارکنوں اور لیڈروں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مقررین نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، ایسے میں بجلی کے ٹیرف میں اضافہ غریب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔پی ڈی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بجلی کے نرخوں میں کیے گئے اضافے کو فوری طور پر واپس لے اور عوام کو راحت فراہم کرے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق شوپیاں میں منعقدہ احتجاج میں پی ڈی پی کے ضلع شوپیان یونٹ سے وابستہ عہدیداروں اور کارکنان نے شرکت کی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔احتجاج میں پی ڈی پی ضلع شوپیان کے ضلع صدر اعجاز میر اور دیگر پارٹی کارکنان نے شرکت کی۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں مجوزہ اضافے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور عوام کو مزید مالی مشکلات سے بچانے کے لیے مو?ثر اقدامات کیے جائیں۔بڈگام میںپارٹی کارکنوں نے ایم ایل اے ا?غا سید منتظر مہدی کی قیادت میں ضلع ہیڈکوارٹر پر جمع ہو کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور بجلی ٹیرف میں کیے گئے اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر ا?غا منتظر مہدی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کا یہ فیصلہ عوام دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری نے عام لوگوں کی کمر توڑ دی ہے، ایسے میں بجلی مہنگی کرنا غریب اور متوسط طبقے پر ظلم ہے۔ پلوامہ میںمظاہرے کی قیادت پی ڈی پی کے ضلعی صدر غلام محمد شاہوری نے کی۔ اس موقعے پر مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ شاہوری نے کہا کہ یہ احتجاج نیشنل کانفرنس کی زیرِ قیادت قائم حکومت کو انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے یاد دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ عوام کے لیے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔یو این ایس کے مطابق ترال میں احتجاج کی قیادت ترال کے رکن اسمبلی اور پی ڈی پی کے سینئر رہنما محمد رفیق نائیک نے کی۔احتجاجی جلوس ترال بس اسٹینڈ سے شروع ہوا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ترال کے دفتر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مظاہرین نے بجلی کے نرخوں میں اضافے، بار بار بجلی کی کٹوتیوں اور صارفین کو درپیش مشکلات کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں پی ڈی پی کے سینئر رہنما جی ایم کانٹرو، دیگر عہدیداران، کارکنان اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔اننت ناگ ،پہلگام کولگام اور وادی کے دیگر مقامات پر بھی پی ڈی پی کارکنوں نے احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ عام صارفین پر بجلی کے بلوں کا مزید مالی بوجھ ڈالنے کے فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔










