نیپال میں اچانک ہلاکت خیز سیلاب۔ 400 افراد ہلاک

نیپال میں اچانک ہلاکت خیز سیلاب۔ 400 افراد ہلاک

کٹھمنڈو/ایجنسیز// نیپال میں چہارشنبہ کی شام اچانک قیامت خیز سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی جس کے نتیجہ میں تاحال 400 افراد کی ہلاکت کی توثیق ہوچکی ہے جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ بتائے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کا تقریبا 30 ممالک سے تعلق ہے جو نیپال میں تفریح یا مذہبی مقامات کا دورہ کرنے پہونچے تھے ۔ تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ نیپال ۔ تبت سرحد کے قریبی علاقوں میں اچانک ہی انتہائی شدید سیلاب نے تباہی مچائی اور چند سیکنڈ میں ایک وسیع و عریض علاقہ تباہی کی لپیٹ میں آگیا ۔ کئی سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ کئی مقامات پر عمارتیں ‘ مکانات ‘ گاڑیاں اور بریجس بھی سیلاب کی زد میں آ کر بہہ گئے ہیں۔ تباہی اس قدر اچانک آئی کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا اور چند سیکنڈ کے وقت میں سب کچھ تہس نہس ہو کر رہ گیا ۔ کچھ مقامات پر سیلاب کے پانی کی شدت کو دیکھتے ہوئے عوام کو اپنی جان بچانے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے ۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں میں گلیشئیر پھٹنے سے یہ تباہی آئی ہے اور سیلاب نے انتہائی شدید رخ اختیار کرلیا ۔ اس کے نتیجہ میں ایک بڑا علاقہ زیر آب آگیا تھا اور کئی افراد کے پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس اچانک آئے ہلاکت خیز سیلاب کا اثر تبت میں بھی دیکھا گیا ہے اور تبت میں بھی 558 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ تبت میں تین افراد کی ہلاکت کی بھی توثیق ہوئی ہے تاہم ابھی قطعی اعداد و شمار کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ سرحد کے دونوں ہی جانب سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی توثیق ہوئی ہے ۔ کہا گیا کہ نیپال کے اس تباہ کن سیلاب میں 300 کے لگ بھگ ہندوستانی سیاح لاپتہ ہیں جبکہ 54 کو تاحال بچانے میں کامیابی ملی ہے ۔ اس سیلاب کا اثر نیپال ۔ چین سرحد کے علاقہ میں بھی دیکھنے کو ملا ہے جہاں پانی کا بہاؤ بہت زیادہ تھا ۔ یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ نیپال کی ایک دریاء بھوٹے کوشی میں سطح آب میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے بعد علاقہ میں نئے سیلاب کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں ۔ کہا گیا کہ جھیل کے پشتے کمزور پڑ رہے ہیں اور ان کے وقت ٹوٹنے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں ۔