نیپال میں تباہ کن سیلاب سے تباہی،167ہلاکتیں اور1300افراد لاپتہ

نیپال میں تباہ کن سیلاب سے تباہی،167ہلاکتیں اور1300افراد لاپتہ

بھارت کی طرف سے پڑوسی ملک کو 37.5 ٹن امدادی سامان روانہ

سرینگر/ / یو این ایس / نیپال میں بھوٹے کوشی دریا میں آنے والے شدید اچانک سیلاب کی زد میں آکر کم از کم 167 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ شدید مانسون بارشوں کے باعث سیلاب نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو بے گھر کردیا ہے۔ اس کے علاوہ مکانات، آبادیوں، سڑکوں، پلوں، زرعی اراضی اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔یو این ایس کے مطابق تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں 1,300 سے زائد افراد لاپتہ جبکہ 167 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دور دراز ہمالیائی سرحدی علاقے کو متاثر کرنے والی بدترین قدرتی آفات میں شمار ہونے والی یہ تباہی بدھ کو اس وقت پیش ا?ئی جب پانی، کیچڑ اور ملبے کا ایک بڑا ریلہ پہاڑی وادیوں سے گزرتا ہوا آبادیوں میں داخل ہو گیا۔ سیلاب نے مکانات، گاڑیوں اور تجارتی عمارتوں کو اپنی زد میں لے لیا اور کئی بستیاں ملبے تلے دب گئیں۔نیپالی حکام کے مطابق ملک کے اندر 826 افراد لاپتہ ہیں، جن میں کم از کم 300 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چین کے تبت خودمختار علاقے کے حکام نے گیئرونگ کاو?نٹی میں مزید 558 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ دونوں ممالک کے اعداد و شمار کو ملا کر لاپتہ افراد کی تعداد کم از کم 1,384 بنتی ہے، تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ مواصلاتی رابطے بحال ہونے اور امدادی ٹیموں کے ان علاقوں تک پہنچنے کے بعد یہ تعداد نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہے جہاں فی الحال رسائی ممکن نہیں۔ تباہی کی شدت نے امدادی کارروائیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پل منہدم ہو گئے ہیں، سڑکیں بند ہیں اور مسلسل لینڈ سلائیڈنگ کے باعث آفت زدہ علاقے کے بڑے حصے کا رابطہ منقطع ہے۔ادھر بھارت نے نیپال میں جاری امدادی اور راحتی کارروائیوں میں مدد کے لیے 37.5 ٹن انسانی امدادی سامان، ادویات اور کھانے کے پیکٹ لے جانے والی دوسری پرواز روانہ کی ہے۔نیپالی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سفارت خانہ بھارت کی صدر دروپدی مرمو، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن، وزیر اعظم نریندر مودی، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر تہہ دل سے شکر گزار ہے۔سفارت خانے نے مرکزی وزرا، گورنروں، وزرائے اعلیٰ، ارکانِ پارلیمنٹ، سیاسی رہنماو?ں اور بھارت بھر کے عوام کا بھی ہمدردی اور یکجہتی کے پیغامات پر شکریہ ادا کیا۔وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ نیپال کے لیے 37.5 ٹن انسانی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کا سامان، ادویات اور کھانے کے پیکٹ لے جانے والی دوسری پرواز روانہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نیپالی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جاری امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت نیپال کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔سفارت خانے نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں اور غیر مصدقہ خبریں، متاثرہ افراد کی ذاتی معلومات یا غیر مجاز چندہ مہمات پھیلانے سے گریز کریں۔بھارت کی یہ امداد اس کی دیرینہ نائیبر ہوڈ فرسٹ پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت نئی دہلی ہنگامی حالات میں پڑوسی ممالک کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتا رہا ہے۔