فوج اور پولیس نے وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی شروع کردی
سرینگر//ڈوڈہ میں مشتبہ افراد کی ایک بار پھر نقل و حمل دیکھ کر پولیس ، فوج اور نیم فوجی دستوں نے وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کردی ہے ۔ ادھر صوبہ جموں کے ریاسی، کٹھوعہ ، ڈوڈہ اور پونچھ میں فوج کی جانب سے جنگلاتی علاقوں میں سیرچ آپریشن جمعہ کو بھی جاری رہا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ڈوڈہ کے پرماج میں دو مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور فوج کی ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم چلائی۔ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔جموں ڈویڑن کے ڈوڈہ ضلع کے پرماج میں دو مشتبہ افراد کے نظر آنے کی اطلاع ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فوج کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔احتیاطی اقدام کے طور پر ڈوڈہ پولیس نے پرماج میں اپروچ روڈ پر ٹریفک کو بھی کچھ دیر کے لیے معطل کر دیا۔ فوج اور جموں کشمیر پولیس کے اہلکار پوری تیاری کے ساتھ پہاڑوں اور جنگلوں میں تلاشی لے رہے ہیں۔ایس ایس پی ڈوڈہ جاوید اقبال نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملی کہ پرماج کے علاقے میں دو مشتبہ افراد دیکھے گئے ہیں۔ جس کے بعد فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ فی الحال کوئی کارروائی نظر نہیں آئی تاہم انسداد دہشت گردی آپریشن جاری ہے۔ادھر صوبہ جموں کے ریاسی ، پونچھ ، ڈوڈہ اور کٹھوعہ اضلاع کے جنگلاتی علاقوں میں شدت پسندوں کی تلاش جمعہ کو بھی جاری رہی اور فوج شدت پسندوں کو بڑے پیمانے پر تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل امر ہے کہ گزشتہ دنوں ریاسی میں شدت پسندوں کی مبینہ حملے میں ایک گاڑی گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں نو یاتری ہلاک ہوئے اس کے ایک دن بعد ایک فوجی اہلکار اوردو شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ ڈوڈہ میں تصادم آرائی میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے تھے ۔










