چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے ملک اور وسط ایشیا کے ممالک سے کہا ہے کہ وہ تجارت، معیشت اور انفرااسٹرکچر میں تعاون کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق خطے کے اہم اسٹریٹیجک سطح کے سمٹ کی شیان میں میزبانی کی جس میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔چین نے اس سمٹ کو اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 میں وسط ایشیا میں تجارت 70ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور 2023 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 22فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔یہ خطہ چین کے کھربوں ڈالر کے عالمی انفرااسٹرکچر منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ کا اہم حصہ ہے۔خطے کے اہم لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ تمام ممالک کو معیشت، تجارت، صنعتی استعداد، توانائی اور ٹرانسپورٹ میں روایتی تعاون کی مکمل صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے فنانس، زراعت، غربت میں کمی، کاربن کی کمی، صحت اور ڈیجیٹل ترقی سمیت مختلف شعبوں میں ترقی کے نئے در کھولنے کی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چین اور وسط ایشیائی ممالک کو باہمی مفاد کو مزید وسعت دینی چاہیے اور اہم مفادات کے حامل امور میں ایک دوسرے کے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ین کے صدر نے علیحدگی پسندی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خطے کے تین بڑے دشمن قرار دیتے ہوئے تمام ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چھ ممالک کو اپنے اندرونی امور میں بیرونی مداخلت اور رنگین انقلاب برپا کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرنی چاہیے۔ان ممالک کا 2025 میں قازقستان میں ہو گا۔










