modi

ترقی یافتہ بھارت کے لیے اجتماعی کردار ضروری: وزیر اعظم مودی

سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کی سماجی، روحانی اور عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ماحولیاتی تحفظ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور روحانی و ذہنی سکون کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اصل طاقت اجتماعی سماجی شعور اور عوامی شرکت میں مضمر ہے، کیونکہ صرف حکومتیں اکیلے قوم سازی کا عمل مکمل نہیں کر سکتیں۔نریندر مودی نے بنگلورو میں آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کے بین الاقوامی مرکز میں تنظیم کے 45 برس مکمل ہونے اور اس کے بانی سری سری روی شنکر سے متعلق تقریبات میں شرکت کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلورو نہ صرف ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بن چکا ہے بلکہ اس نے بھارت کے روحانی اور ثقافتی شعور کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر نئے مراقبہ ہال کا افتتاح بھی کیا اور کہا کہ یہ مرکز آنے والی نسلوں کے لیے امن، سکون اور ذہنی شفا کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تہذیبی روح بے لوث خدمت میں پوشیدہ ہے اور ملک کی روحانی تحریکوں نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی ہے۔نریندر مودی نے آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کی قبائلی علاقوں میں فلاحی کاموں، قیدیوں کی ذہنی صحت بہتر بنانے اور سماجی بہبود سے متعلق مختلف پروگراموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیمیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ’’سواچھ بھارت مشن‘‘ جیسی مہمات کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب عوام کسی مقصد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تو بڑے سے بڑا ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوم کی ترقی صرف سرکاری منصوبوں سے نہیں بلکہ عوامی شمولیت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری سے ممکن ہوتی ہے۔نریندر مودی نے بھارت کی ڈیجیٹل ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک آج ڈیجیٹل ادائیگیوں، اسٹارٹ اپس، بنیادی ڈھانچے اور خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف سائنسی اختراعات میں حصہ لے رہا ہے بلکہ کئی شعبوں میں عالمی قیادت بھی کر رہا ہے، جس میں نوجوان نسل کا کردار سب سے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب ضرور کیا ہے، لیکن سب سے اہم بات انسان کا اپنے باطن اور اپنی روح سے جڑنا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق ایک ترقی یافتہ بھارت صرف اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان ذہنی طور پر پْرسکون، سماجی طور پر ذمہ دار اور معاشرتی حساسیت کے حامل ہوں۔ انہوں نے یوگا، مراقبہ اور ذہنی صحت سے متعلق سرگرمیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ماحولیاتی تحفظ کے موضوع پر نریندر مودی نے قدرتی کھیتی باڑی اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کیمیائی کھادوں نے زمین کی زرخیزی کو نقصان پہنچایا ہے اور اب ’’مدر ارتھ‘‘ کو بھی قدرتی شفا کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آرٹ آف لیونگ کے رضاکاروں سے اپیل کی کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی زراعت کے فروغ میں مزید سرگرم کردار ادا کریں۔دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلورو میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کے دوران کانگریس پر شدید سیاسی حملہ کرتے ہوئے اسے ’’پیراسائٹ پارٹی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اندرونی اقتدار کی لڑائیوں میں مصروف رہتی ہے۔انہوں نے کرناٹک میں جاری سیاسی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے ریاستی حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے قیادت اور اقتدار کی رسہ کشی میں الجھی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے پاس حکمرانی کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں اور وہ صرف عوام کو ’’جھوٹے وعدے‘‘ دیتی ہے۔نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں حالیہ انتخابی نتائج بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے کے حق میں عوامی اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب گھوٹالوں کے بجائے ترقی، تیز رفتار فیصلوں اور قومی مفاد پر مبنی سیاست چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آج جنوبی اور مشرقی بھارت میں بھی تیزی سے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کر رہی ہے۔ انہوں نے مغربی بنگال، آسام، پڈوچیری اور دیگر ریاستوں میں پارٹی کی انتخابی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سیاست ایک نئے رخ کی جانب بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کانگریس پر اتحادی جماعتوں اور اپنے ہی رہنماؤں کے ساتھ ’’غداری‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی اقتدار کے لیے اپنے اتحادیوں کو بھی قربان کر دیتی ہے۔ وزیر اعظم نے خواتین کو ریزرویشن دینے کے معاملے پر بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی نے خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔خطاب کے اختتام پر نریندر مودی نے عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی اور مغربی ایشیا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے وسائل کے محتاط استعمال اور قومی اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔