سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے موجودہ یونین ٹیریٹری نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’’بدترین طرزِ حکومت‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوہرے اختیارات پر مبنی انتظامی ڈھانچہ جموں و کشمیر جیسے حساس اور بڑے خطے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہیے تاکہ منتخب حکومت عوامی مسائل کے حل اور انتظامی امور میں مکمل اختیار کے ساتھ کام کر سکے۔ ایک تفصیلی انٹرویو میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی والی یونین ٹیریٹری کا نظام ایک پیچیدہ اور غیر مؤثر انتظامی ماڈل ہے، جہاں اختیارات مختلف مراکز میں تقسیم ہونے کے باعث منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دو طاقت کے مراکز‘‘ پر مبنی یہ نظام دراصل ’’تباہی کا نسخہ‘‘ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف انتظامی عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ عوامی جوابدہی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ 90 منتخب اراکین اسمبلی رکھنے والے جموں و کشمیر کو 30 اراکین والی چھوٹی یونین ٹیریٹریوں، جیسے پڈوچیری، کے برابر کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی وسعت، آبادی، سکیورٹی صورتحال اور انتظامی ضروریات کا تقابل کسی چھوٹے خطے سے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے یہاں مکمل اختیارات کے حامل ریاستی نظام کی ضرورت ہے۔عمر عبداللہ نے گزشتہ برس پیش آنے والے پہلگام سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس حالات میں منتخب نمائندوں کو قانون و انتظام کے معاملات سے الگ رکھنا کسی بھی طرح عوامی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے منتخب نمائندوں کو مکمل اختیار نہ دیا جائے تو حکومت کی کارکردگی اور عوامی اعتماد دونوں متاثر ہوتے ہیں۔یو این ایس مانیٹرئنگ کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ کئی اہم ادارے، جن میں یونیورسٹیاں، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سکمز) اور پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن شامل ہیں، اب بھی منتخب حکومت کے مکمل دائرہ اختیار میں نہیں ہیں، حالانکہ ان اداروں کا براہ راست تعلق عوامی خدمات اور بنیادی سہولیات سے ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ایسے اداروں کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ماتحت ہونا چاہیے تاکہ عوامی ضروریات کے مطابق فیصلے لیے جا سکیں۔بجلی سبسڈی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ غربت کی لکیر سے اوپر زندگی گزارنے والے افراد کو بجلی پر سبسڈی نہیں ملنی چاہیے اور انہیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وسائل کا استعمال صرف ان طبقات کے لیے ہونا چاہیے جو واقعی مالی طور پر کمزور ہیں۔وزیر اعلیٰ نے اپنی تقریباً 20 ماہ پر مشتمل حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’دربار موو‘‘ کی بحالی، خواتین کے لیے مفت بس سفر اور مفت تعلیم جیسے اقدامات حکومت کی اہم کامیابیوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دربار موو صرف ایک انتظامی روایت نہیں بلکہ جموں اور کشمیر کے درمیان جذباتی اور سماجی ربط کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دربار موو کی بحالی کے بعد جموں سے تعلق رکھنے والے کئی سرکاری ملازمین پہلی مرتبہ وادی کشمیر میں کام کر رہے ہیں، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ عناصر سیاسی فائدے کے لیے جموں اور کشمیر کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مشکل حالات میں دونوں خطوں کے عوام ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سوال بی جے پی سے پوچھا جانا چاہیے کہ کشمیری پنڈت آج بھی کیمپوں میں کیوں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈت اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک ان کے اندر مکمل تحفظ اور اعتماد بحال نہیں کیا جاتا۔انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو کشمیری پنڈتوں کے لیے جگتی ٹاؤن شپ تعمیر کرنے اور سرکاری ملازمتوں میں مخصوص کوٹہ دینے کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد اس برادری کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔خاندانی سیاست کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سیاسی خاندان سے تعلق صرف سیاست میں داخلے کا دروازہ کھول سکتا ہے، لیکن کامیابی اور عوامی حمایت کا انحصار کارکردگی پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر خاندانی سیاستدان بھی انتخابات میں شکست کھاتے رہے ہیں، اس لیے ہر سیاسی شکست کو خاندانی سیاست سے جوڑنا مناسب نہیں۔وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں ممکنہ کابینہ ردوبدل کی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق کام جاری رکھے گی، جبکہ عوامی فلاح و بہبود اور جموں و کشمیر کی سیاسی و انتظامی بحالی حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔










