اقوام متحدہ کا اگلا سربراہ کون ہوگا؟ چین نے کی ایک خاتون کی حمایت، عالمی ادارہ کیلئے انتخابی عمل شروع

چین نے اقوام متحدہ کے اگلے سکریٹری جنرل کے طور پر ایک خاتون کے انتخاب کی حمایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ عالمی ادارے میں ایک خاتون رہنما کی قیادت کو دیکھ کر بہت خوشی ہوگی۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی 80 سالہ تاریخ میں کبھی کسی خاتون رہنما نے قیادت نہیں کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ میں اگلے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ اور اقوام متحدہ ٹریڈ اور ڈیولپمنٹ کانفرنس (یو این سی می اے ڈی) کی سکریٹری جنرل ریبیکا گرنسپین سمیت 4 خواتین دنیا کی اعلیٰ سفارت کار کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو کانگ نے پیر کو یہاں کہا کہ ہمیں ایک خاتون سکریٹری جنرل کو دیکھ کر خوشی ہوگی۔ 80 سال ہو گئے ہیں، اس لیے اگر ہمیں ایک خاتون سکریٹری جنرل مل جائے تو چین کو بہت خوشی ہوگی۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی اور سینیگال کے سابق صدر میکی سال بھی اقوام متحدہ کے سربراہ کے عہدے کے لیے دعویداری پیش کررہے ہیں۔ گزشتہ ماہ چاروں امیدواروں کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور سول سوسائٹی کے وسیع انٹرایکٹو مکالمے کے دوران اگلے سکریٹری جنرل عہدے کے لیے ان کے وژن اور اقوام متحدہ میں اس اعلیٰ عہدے کے لیے وہ سب سے بہترین متبادل کیوں ہیں؟۔ اس بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ کے سربراہ کے عہدے کے لیے 4 نامزد امیدواروں میں سے چین کا کوئی پسندیدہ امیدوار ہے، تو مئی ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے، فو نے گزشتہ ہفتے کہا کہ ’’اگر ہوتا، تو میں آپ کو نہیں بتاتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے پاس اگلے سکریٹری جنرل کے لیے کچھ معیارات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے اور اسے ایک مضبوط سکریٹری جنرل کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں کثیرالجہتی کے لیے پرعزم ہو، اقوام متحدہ کے کردار کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہو اور کسی ایک سپر پاور کی پالیسیوں کے ساتھ بہت زیادہ منسلک نہ ہو۔ (قومی آواز )